رسائی کے لنکس

جنوبی سوڈان: مچار کا ’مزاحمتی‘ گروپ بنانے کا اعلان


پیر کے دِن ’وائس آف امریکہ‘ کے ساتھ ٹیلی فون پر ایک انٹرویو میں، مچار نے اِس بات کی تصدیق کی کہ وہ صدر سالوا کیئر کی حکومت کے مخالف ہیں

جنوبی سوڈان کے سابق نائب صدر نے کہا ہے کہ اُنھوں نے حکومت سے لڑنے کے لیے ایک ’مزاحمتی‘ گروپ تشکیل دیا ہے، جو، بقول اُن کے، اِس جنگ زدہ ملک میں جمہوریت اور بہتر عمل داری کے حصول کو یقینی بنائے گا۔

جنوبی سوڈان کی حکومت رئیک مچار پر حکومت کا تختہ الٹنے کا الزام لگاتی ہے، جس کے باعث کئی ہفتوں سے حکومت کی حامی اور مخالف فوجوں کے درمیان مہلک لڑائی چھڑ گئی ہے۔

پیر کے دِن ’وائس آف امریکہ‘ کے ساتھ ٹیلی فون پر ایک انٹرویو میں، مچار نے اِس بات کی تصدیق کی کہ وہ صدر سالوا کیئر کی حکومت کے مخالف ہیں۔

مچار کے بقول، ’ہم نے حکومت کے خلاف مزاحمت کا فیصلہ کیا ہے۔ اس لیے، ہاں، اگر آپ نے نیل کے بالائی علاقے، جونگلائی، متحدہ ریاستوں یا اکئیٹوریا میں فوجوں کے بارے میں سنا ہے، وہ کچھ جو میں آپ کو بتا رہا ہوں، تو، ہاں، اب ہم حکومت کے خلاف ایک منظم مزاحمت کر رہے ہیں‘۔

مچار نے کہا کہ اُن کا گروپ جنوبی سوڈان میں جمہوریت، سب کی شراکت پر مبنی حکمرانی، آزاد انتخابات اور بہتر عمل داری کا خواہاں ہے۔

خیال کیا جاتا ہے کہ جنوبی سوڈان کی لڑائی میں اب تک ہزاروں لوگ ہلاک ہوچکے ہیں، جب کہ پانچ لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہوچکے ہیں۔

دس روز قبل، ایتھیوپیا میں حکومت اور باغیوں کے وفود نے جنگ بندی کے لیے جس معاہدے پر دستخط کیے تھے، اُس پر عمل درآمد ہو رہا ہے، باوجود یہ کہ ہر فریق ایک دوسرے پر اس کی خلاف ورزی کا الزام لگا رہا ہے۔

سات فروری سے مزید مذاکرات ہونے والے ہیں۔

مچار صدر کے ایک سیاسی حریف ہیں اور اس بات کا اعلان کرچکے ہیں کہ وہ آئندہ انتخابات میں صدر کے خلاف کھڑے ہوں گے۔ مسٹر کیئر نے اُنھیں جولائی میں سبکدوش کردیا تھا، جسے تقریباً پانچ ماہ گزر چکے ہیں، جس کے بعد سے لڑائی چھڑ چکی ہے۔
XS
SM
MD
LG