رسائی کے لنکس

بقول اُن کے، ’چَلائی گئی گولی میرے بازو کے اوپر والے حصے میں لگی۔ اور جسم کو چیرتی ہوئی، پار ہوگئی‘

جنوبی سوڈان میں مقیم ایک نامہ نگار نے تشدد کے اُس دلخراش واقعے کی تفصیل بتائی ہے، جِب گولیاں چلنے کے بعد بھگ دڑ مچی اور اُنھوں نے ایک قریبی جھاڑی کے پیچھے چھپ کر جان بچائی۔

منیانگ ڈیوڈ مایار نے جمعے کے روز ’وائس آف امریکہ ‘کی ’افریقہ کے لیے انگریزی سروس‘ کو بتایا کہ گولی لگنے کے واقعے میں وہ زخمی ہوئے، ایسے میں جب وہ اپنے اہل خانہ کے ہمراہ، جمعرات کو اپنے آبائی قصبے، ’بور‘ کی طرف واپس آرہا تھا۔

مایار نے کہا کہ اُنھیں اتفاقیہ طور پر حکومتی فوجیوں کی گولی لگی، جو بظاہر نشے کی کیفیت میں دکھائی دے رہے تھے۔

بقول اُن کے، ’چَلائی گئی گولی میرے بازو کے اوپر والے حصے میں لگی۔ اور جسم کو چیرتی ہوئی، پار ہوگئی۔‘

مایار کو ’بور‘ ہی میں واقع اقوام متحدہ کی عمارت کے احاطے کے اندر طبی امداد فراہم کی گئی۔

اُنھوں نے کہا کہ علاقے میں لڑائی چھڑنے کے بعد، اپنے خاندان سمیت وہ پچھلے ہفتے سے چھپتے رہے ہیں۔

اس ماہ کے اوائل میں، باغی فوجیوں نے ایک مختصر وقت تک ’بور‘ کو اپنے قبضے میں لے لیا تھا، جو ریاستِ ’جونگلئی‘ کا دارالحکومت ہے۔

مایار نے کہا کہ ہزاروں لوگوں نے جھاڑیوں کے پیچھے چھپ کر پناہ لی، جہاں متعدد افراد نے بنیادی انسانی سہولیات کی عدم موجودگی میں، جان بچائی۔

اُن کے الفاظ میں، ہزاروں لوگ، جن میں خواتین، بچے اور مرد شامل تھے، اپنے گھر بار چھوڑ کر جھاڑیوں کے پیچھے چھپے رہے۔ اس بھگ دڑ کے دوران دو خواتین ایسی بھی تھیں جنھوں نے بچوں کو جنم دیا۔ ایسے لمحات میں، دائیوں نے نہیں، بلکہ مردوں نے اُن کی مدد کی۔

مایار نے بتایا کہ واپس آنے پر اُنھوں نے اپنے قصبے کو بری طرح تباہ حال دیکھا۔

اُنھوں نے یہ بھی بتایا کہ سڑکوں پر لاشیں بکھری پڑی تھیں۔
XS
SM
MD
LG