رسائی کے لنکس

جنوبی وزیرستان: انسداد پولیو مہم میں مبینہ رکاوٹ پر سات افراد گرفتار

  • شمیم شاہد

فائل فوٹو

صوبہ خیبرپختونخوا کی حالیہ انسداد پولیو مہم کے دوران پانچ سال تک کی عمر کے تقریباً 40 ہزار بچے پولیو سے بچاؤ کے قطرے پینے سے رہ گئے تھے جب کہ 4800 بچوں کے والدین نے یہ قطرے پلوانے سے انکار کیا تھا۔

قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان کی پولیٹیکل انتظامیہ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے نہ پلوانے والے تقریباً ڈھائی سو خاندانوں کو قائل کرنے کی کوششیں کر رہی ہے جب کہ اس کام میں رکاوٹ ڈالنے کے الزام میں ایک قبائلی راہنما سمیت سات افراد کو مقامی حکام نے حراست میں بھی لیا ہے۔

جنوبی وزیرستان کے مرکزی قصبے سے موصولہ اطلاعات کے مطابق پولیٹیکل ایجنٹ کے احکامات پر گاؤں شاہ کوٹ سے سات افراد کو تحویل میں لیا گیا جن میں توجے خیل قبیلے کے راہنما ملک میر اسلم بھی شامل ہیں۔

ان افراد کو قائل کیا جا رہا ہے کہ وہ انسداد پولیو مہم میں رکاوٹ نہ ڈالیں۔

ان گرفتاریوں پر مقامی قبائلیوں نے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتظامیہ ان کے تحفظات دور کرنے میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر رہی ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ یہ قبائلی اپنے علاقے میں ترقیاتی کاموں کے نہ ہونے پر نالاں ہیں اور انسداد پولیو مہم میں تعاون نہ کر کے انتظامیہ پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

پولیٹیکل ایجنٹ کامران آفریدی کا کہنا ہے کہ پولیو کا خاتمہ بین الاقوامی میثاق کے مطابق حکومت کی ذمہ داری ہے اور اس میں کسی طرح کی رکاوٹ کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

اس وقت افغانستان اور پاکستان دنیا کے وہ واحد دو ملک ہیں جہاں انسانی جسم کو مفلوج کر دینے والی بیماری پولیو کے وائرس پر تاحال پوری طرح قابو نہیں پایا جا سکا ہے۔

تاہم حالیہ برسوں میں کی جانے والی مسلسل کوششوں سے ماضی کی نسبت پولیو وائرس کے پھیلاؤ میں قابل ذکر حد تک کمی دیکھی گئی ہے۔

دریں اثناء صوبہ خیبرپختونخوا کی حالیہ انسداد پولیو مہم کے دوران پانچ سال تک کی عمر کے تقریباً 40 ہزار بچے پولیو سے بچاؤ کے قطرے پینے سے رہ گئے تھے جب کہ 4800 بچوں کے والدین نے یہ قطرے پلوانے سے انکار کیا۔

تاہم محکمہ صحت کے عہدیدار محمد اکبر خان نے پیر کو وائس آف امریکہ کو بتایا کہ مہم کے ختم ہونے پر سامنے آنے والے ایک اعدادوشمار کم ہو جائیں گے کیونکہ ایسے بچوں تک مہم کے بعد ایک حکمت عملی کے تحت رسائی کو ممکن بنایا جاتا ہے۔

"ایسے بچوں کی نگرانی کا ایک نظام وضع کیا گیا ہے جس کے تحت ہم مہم کے ختم ہونے کے بعد دو ہفتوں تک ان بچوں تک رسائی کا سلسلہ جاری رکھتے ہیں۔ ایسے بہت سے جو مہم کے دوران گھر پر نہیں ہوتے بار بار ان کے گھر جا کر انھیں قطرے پلوانے کی کوشش کی جاتی ہے تو 14 دن بعد یہ تعداد خاصی کم ہو جاتی ہے۔"

ان کا کہنا تھا کہ جن بچوں کے والدین قطرے پلوانے سے انکار کر رہے ہیں ان کے تحفظات اور خدشات کو چاہے وہ مذہبی بنیادوں پر ہوں یا کسی اور بنا پر، انھیں دور کرنے کے لیے بھی حکمت عملی وضع کی جا چکی ہے اور ایسے والدین سے مذہبی شخصیات اور دیگر اکابرین ملاقات کر کے انھیں پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلوانے پر آمادہ کرتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG