رسائی کے لنکس

جنوبی وزیرستان: جھڑپ میں چار فوجی اور نو 'عسکریت پسند' ہلاک

  • شمیم شاہد

فائل فوٹو

فائل فوٹو

سلامتی کے امور کے ماہر اسد منیر نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ عسکریت پسندوں کی طرف سے اکا دوکا کاررائیوں کا خدشہ موجود رہے گا جب تک کہ ان کا مکمل خاتمہ نہیں ہو جاتا ہے۔

پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں شدت پسندوں کے ساتھ جھڑپ میں چار سکیورٹی اہلکار اور نو عسکریت پسند مارے گئے۔

حکام کے مطابق بھاری ہتھیاروں سے لیس عسکریت پسندوں نے شمالی وزیرستان کی سرحد کے قریب واقع علاقے لدھہ میں حملہ کیا جس سے چار سکیورٹی اہلکار ہلاک اور پانچ زخمی ہوگئے۔

فوج نے جوابی کارروائی میں کم ازکم نو عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے کا بتایا ہے۔

جہاں یہ واقعہ پیش آیا وہاں ذرائع ابلاغ کی رسائی نہ ہونے کی وجہ سے یہاں ہونے والی ہلاکتوں اور ان کی تعداد کی آزاد ذرائع سے تصدیق تقریباً ناممکن ہے۔

گزشتہ سال جون سے پاکستانی فوج نے شمالی وزیرستان میں ضرب عضب کے نام سے بھرپور کارروائی شروع کر رکھی ہے جس میں 2700 سے زائد ملکی و غیر ملکی عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے کا بتایا جا چکا ہے۔

ان قبائلی علاقوں کے دور افتادہ علاقوں میں شدت پسند اب بھی موجود ہیں جن کے قلع قمع کے لیے سکیورٹی فورسز اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں اور بعض مقامات پر انھیں مزاحمت کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے۔

سلامتی کے امور کے ماہر اورفوج کے سابق بریگیڈیئر اسد منیر نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ عسکریت پسندوں کی طرف سے اکا دوکا کاررائیوں کا خدشہ موجود رہے گا جب تک کہ ان کا مکمل خاتمہ نہیں ہو جاتا ہے۔

" یہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے ہیں ہو سکتا ہے کہ جنوب (جنوبی وزیرستان) میں یہ دوبارہ آجائیں زیادہ تعدا میں نہیں لیکن اگر پانچ چھ آدمی کسی کمپاؤنڈ میں دیسی خود ساختہ بم رکھ دیں۔ اسی طرح ہو سکتا ہے کہ یہ اور علاقو ں میں بھی جائیں۔ یہ آپریشن سے بالکل ختم نہیں ہوئےلیکن اگر دو سال تک یہ (آپریشن) چلاتے رہے شہروں میں بھی اور جو علاقے انہوں ںے خالی کئے ہیں قبائلی علاقے ان کو محفوظ بنائیں تب یہ ختم ہو ں گے چھوٹے چھوٹے واقعات ہوتے رہیں گے"۔

تاہم اسد منیر کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی فورسز کی طرف سے ہونے والی کارروائیوں کی وجہ سے عسکریت پسندوں کی طرف سے بڑی عسکری کارروائیاں کرنے کی صلاحیت میں خاطر خواہ کمی واقع ہوئی ہے۔

فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف یہ کہہ چکے ہیں کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک یہ کارروائیاں جاری رہیں گی۔

XS
SM
MD
LG