رسائی کے لنکس

گورباچوف کی داخلی اصلاحات اور سوویت یونین کا خاتمہ

  • آندرے نیسنیرا

میخائل گورباچوف

میخائل گورباچوف

اس دسمبر میں سوویت یونین کو ٹوٹے ہوئے بیس برس ہو جائیں گے۔ سوویت یونین کے آخری لیڈر میخائل گورباچوف تھے۔ انھوں نے سوویت یونین کے داخلی نظام میں اصلاحات کی جو کوششیں کیں ، ان سے سوویت یونین کے خاتمے کا عمل مکمل ہو گیا۔

1985 کے شروع میں، میخائل گورباچوف سوویت یونین کے لیڈر بن کر ابھرے ۔ اس وقت انکی عمر 54 سال تھی اور وہ حکمراں پولٹبیورو کے سب سے کم عمر رکن تھے ۔ امریکہ کے سابق نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر، جنرل برینٹ اسکاؤکرافٹ کہتے ہیں کہ اس سے پہلے سوویت یونین کے تمام لیڈر بڑی عمر کے لوگ تھے۔’’میرے خیال میں، گوربا چوف کو اس لیے لایا گیا تھا کہ سوویت نظام کو کچھ توانائی ملے ۔ یہ کس طرح ممکن تھا، اس بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ مجھے یقین نہیں کہ انہیں اس مقصد میں کامیابی ہوئی۔‘‘

اگلے چھ برسوں میں، مسٹر گورباچوف نے ملک کے اندر اصلاحات کا سلسلہ شروع کیا جن سے سوویت یونین میں بنیادی تبدیلیاں آئیں۔ روس میں امریکہ کے سابق سفیر تھامس پکیرنگ کہتے ہیں’’ان کی کوشش یہ تھی کہ یہ تجزیہ کریں کہ روس کدھر جا رہا ہے۔ انھوں نے گویا ایک گھوڑے پر سوار ہو کر اس کا رخ موڑنے کی کوشش کی لیکن انہیں پتہ چلا کہ وہ ایک بے قابو ہاتھی پر سوار ہیں۔‘‘

مسٹر گورباچوف کی اصلاحات نے معاشرے کے ہر طبقے کو متاثر کیا ۔ انھوں نے پریس پر عائد پابندیاں ختم کردیں ، سیاسی قیدیوں اور حکومت کے مخالفین کو جیلوں سے رہا کر دیا ۔ سابق نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر برینٹ اسکاؤکرافٹ کہتے ہیں’’وہ جمہوریت نواز نہیں تھے لیکن وہ سوویت نظام کی کارکردگی بہتر بنانا چاہتےتھے اور معاشرے سے جبر اور ظلم کم کرنا چاہتے تھے۔‘‘

لیکن گورباچوف جس ادارے کی اصلاح نہ کر سکے وہ سوویت کمیونسٹ پارٹی تھی۔ فوج اور کے جی بی کی قیادت کے ساتھ مل کر کمیونسٹ پارٹی کے سخت موقف رکھنے والے ارکان نے اگست 1991 میں مسٹر گورباچوف کی حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کی۔

لیکن یہ کوشش نا کام ہوئی۔ اسکاؤکرافٹ کہتے ہیں’’بغاوت کی یہ بڑی بھونڈی کوشش تھی۔ اس کی نہ احتیاط سے منصوبہ بندی کی گئی تھی اور نہ اس پر ہوشیاری سے عمل کیا گیا۔‘‘

پکیرنگ کا بھی یہی خیال ہے ۔ وہ کہتےہیں’’ اس بغاوت کی قیادت دیوالیہ پن کا شکار تھی۔ ایک طرح سے یہ سب ووڈکا کے نشے میں مست، بوڑھے ، دقیانوسی لوگ تھے۔‘‘

اس ناکام بغاوت کے چار مہینے بعد، سوویت یونین کا خاتمہ ہو گیا۔ اسکاؤکرافٹ کہتے ہیں کہ اس کے ساتھ ہی بورس یلسن کے ہاتھوں مسٹر گورباچوف کا زوال یقینی ہو گیا۔’’گورباچوف کو راستے سے کیسے ہٹایا جائے؟ سوویت یونین کو ان کے قدموں کے نیچے سے کھینچ کر ۔ میرے خیال میں سوویت یونین کے ٹیکنیکل خاتمے کی بڑی وجہ یہ تھی کہ گورباچوف کے پاس کوئی کام نہیں تھا۔‘‘

بہت سے ماہرین کہتے ہیں کہ مسٹر گورباچوف نے ایسی قوتوں کو آزاد کر دیا جن پر وہ بعد میں قابو نہ پا سکے۔ یہ وہ قوتیں تھیں جن کے نتیجے میں، 25 دسمبر، 1991 کو سوویت یونین کا خاتمہ ہو گیا۔ یہ وہ دن تھا جب میخائل گوربا چوف نے سوویت یونین کےصدر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔

XS
SM
MD
LG