رسائی کے لنکس

امریکہ نے شٹل خلائی پروگرام کی بساط لپیٹ دی

  • صلاح احمد

کینیڈی اسپیس سینٹر فلوریڈا: خلابازوں کا اینٹلانٹس کے سامنےگروپ فوٹو

کینیڈی اسپیس سینٹر فلوریڈا: خلابازوں کا اینٹلانٹس کے سامنےگروپ فوٹو

امریکی اخبارات سے: اب سوال پیدا ہوتا ہے آیا قوم میں اتنی ہمّت ہےکہ وہ اپنے خلا بازوں کو اِس سے بھی زیادہ اولوالعزمانہ خلائی سفر پر روانہ کرے

(1)جیسا کہ آپ کو معلوم ہے، امریکہ کے شٹل خلائی پروگرام کی بساط لپیٹ دی گئی ہے۔ اخبار ’نیو یارک ٹائمز‘ کہتا ہے کہ تیس برسوں پر محیط اِس پروگرام کے دوران عظیم خلائی کارنامے سرانجام دئے گئے۔ اگرچہ بعض حادثے بھی ہوئے۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے آیا قوم میں اتنی ہمّت ہےکہ وہ اپنے خلا بازوں کو اِس سے بھی زیادہ اولوالعزمانہ خلائی سفر پر روانہ کرے۔ اِس کا امکان نظر نہیں آتا۔ تاہم، امریکہ خلائے بسیط میں اپنی سرگرمیوں سے دست بردار نہیں ہو رہا۔ امریکی خلاباز سنہ 2020 تک بین الاقوامی خلائی اسٹیشن میں تجربات کرتے ر ہیں گے جہاں جانے کے لئے اب وہ رُوسی خلائی جہازوں کا استعمال کریں گے۔

صدر اوبامہ نےخلابازوں کو زیادہ اولوالعزمانہ مشن پر بھیجنے کی تجویز رکھی ہے۔ اِن میں ایسی ٹیکنالوجی کا استعمال ہوگا جِن پرابھی انسان کو قدرت حاصل نہیں ہے۔ اور جِن کی مدد سے سنہ 2030 تک مرّیخ تک پہنچنا مقصود ہے۔ لیکن آج کل کے مشکل اقتصادی حالات کے پیش نظریہ سوال کرنا شائد مناسب ہوگا کہ خلا بازوں کو ایسےمشن پر بھیجنے کا کیا جواز ہوگا۔ جب کہ بغیر خلاباز کے خلائی سیارچوں اور خلائی خوردبین کی مدد سےاس قدر وافر سائنسی معلومات حاصل کی گئی ہیں۔ اخبار کہتا ہے کہ امریکہ کے سالانہ وفاقی اخراجات 370 کھرب ڈالر ہیں جِس میں امریکہ کے خلائی ادارے ناسا کا حصہ محضّ 18 ارب ڈالر ہے۔

(2) امریکہ کے قومی قرض کی حد بڑھانے پرصدراوبامہ اور ری پبلکن قیادت کےمابین برابر تعطّل کا شکار ہےاور 2 اگست کی حتمی تاریخ قریب آنے کےساتھ ساتھ ملک کی معیشت سخت دباؤ میں ہے اور بیروزگاری کے شرح بہت زیادہ ہے۔

اخبار’فلاڈلفیا انکوایرر‘ کے ادارئے کا عنوان ہے ’کوئی روزگار نہیں، کوئی اقتصادی بحالی نہیں ہو رہی‘۔ اخبار کہتا ہے کہ کاروباری اداروں کوٹیکسوں میں کئی بار چھوٹ دینےاور بیل آوٹ کی شکل میں اُنھیں امدادفرا ہم کرنے کےباوجود یہ ادارے اتنی تعداد میں ملازمتیں نہیں دے رہےجس سے بے روزگاری کی شرح میں کوئی خاص فرق پڑے۔ اور لوگوں کو شبہ ہے کہ وہ کبھی ایسا کر بھی سکیں گے۔ پچھلے پورے دو ماہ کے دوران صرف ساڑھے21 ہزار روزگار کے نئے مواقع پیدا کئے گئے ہیں، جبکہ حکومت سے بے روزگاری کی مراعات حاصل کرنے والوں کی تعداد 408000 ہفتہ وار سےبڑھ کر418000 ہوگئی ہے۔اِس طرح، بے روزگاری کی شرح نجی شعبے میں 9 اعشاریہ 2 فی صد ہے، جس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ جتنے لوگوں کو روز گار ملتا ہے اس سے کہیں زیادہ لوگ روزگار سے محروم ہو رہے ہیں۔ صرف مئی کے مہینے میں بےروزگار ہونےوالوں کی تعداد 16 لاکھ 60 ہزارتھی۔ امریکی خلائی شٹل پروگرام ختم کرنے سےبھی اِس سےوابستہ32 ہزار ٹھیکے داروں اور کارکنوں کاروزگار بھی جاتا رہا ہے۔

اخبار کہتا ہے کہ ملک کو کساد بازاری سے نجات دلانے کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کئے بغیر چارہ نہیں۔ وفاق کی طرف سے صنعتوں کوجومالی امداد فراہم کی گئی تھی وہ کافی ثابت نہیں ہوئی ہے۔ بہت سی کمپنیوں نے یہ سرمایہ ایسی ٹیکنالوجی میں لگا دیا جِس کے اُن کے لئے مزدوروں کی کم تعداد میں کام چلانا ممکن ہو گیا۔ ظاہر ہے یہ ملازمتیں اب واپس نہیں آئیں گی اورجس کے پیشِ نظر یہ ضروری ہو گیا ہے کہ نئی صنعتوں کو فروغ دیا جائے تاکہ لوگوں کو روزگار میسّر ہو۔

(3)اخبار ’ٹیمپا بےٹریبیون‘ نےاوبامہ انتظامیہ کے اِس منصوبے پر تبصرہ کیا ہے کہ سنہ 2025 تک ماحولیات کےحق میں اچھی ایسی موٹر کار بنائی جائے جو فی گیلن 56 میل مسافت طے کرے۔ اخبار کہتا ہے کہ کثافت پر تشویش کرنے والے ماہرینِ ماحولیات اور پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر پریشان ماہرین معاشیات اِس کی حمایت کر رہے ہیں اور وہ لوگ بھی جوچاہتے ہیں کہ غیر ملکی تیل پر ملک کا انحصار کم سے کم ہو۔ لیکن اخبار کہتا ہے کہ اِس ہدف کے حصول میں شاید بہت زیادہ سرمایہ لگے۔

اخبار کے جائزے کے مطابق اِس سال کی سب سے زیادہ مقبول موٹر کارو ں کا پٹرول کا خرچ 29 میل فی گیلن ہےاور 56 میل کا ہدف حاصل کرنا ابھی دور کی بات ہے۔ البتہ، فی گیلن ساڑھے 35 میل کا ہدف سنہ 2016 تک حاصل کرنا زیادہ قابل قبول لگتا ہے۔

آڈیو رپورٹ سنیئے:

XS
SM
MD
LG