رسائی کے لنکس

سپیس ایکس کی خلائی پرواز مؤخر


پرائیویٹ شعبے کے ذریعے بین الاقوامی خلائی سٹیشن بھیجا جانے والا ڈریگن کیپسول

پرائیویٹ شعبے کے ذریعے بین الاقوامی خلائی سٹیشن بھیجا جانے والا ڈریگن کیپسول

فلوریڈا کے کیپ کارنیوال زمینی مرکز سے ہفتے کو طلوع آفتاب سے قبل خلائی راکٹ کے ذریعے ’ ڈریگن کیپسول‘کی روانگی دوسری بار ملتوی کی گئی ہے۔

زمین کے مدار میں گردش کرنے والے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کی جانب بھیجے جانے والے پرائیویٹ شعبے کے خلائی جہاز کی افتتاح پرواز تکنیکی خرابی کے باعث مؤخر کردی گئی ہے۔

فلوریڈا کے کیپ کارنیوال زمینی مرکز سے ہفتے کو طلوع آفتاب سے قبل خلائی راکٹ کے ذریعے ’ ڈریگن کیپسول‘کی روانگی دوسری بار ملتوی کی گئی ہے۔

نئے پروگرام کے تحت اسے منگل کی صبح دوبارہ روانہ کیا جائے گا۔

کیپسول سفید رنگ کے ایک لمبے اور باریک راکٹ پر نصب کیا گیا ہے جو سپیس ایکس کمپنی کی ملکیت ہے۔ اس کیپسول کے ذریعے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کے لیے سامان بھیجا جارہاہے۔

سپیس ایکس کمپنی کی سربراہ گوین شاٹ ویل نے کہاہے کہ ایک کمپیوٹر کے ذریعے یہ پتا چلنے کے بعد کہ ایک انجن کے چیمبر میں دباؤ بہت زیادہ ہے، کمپنی نے پرواز مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا۔انہوں نے بتایا کہ اس خرابی کی وجوہات کا تعین نہیں کیا جاسکا۔

شاٹ ویل نے نامہ نگاروں کوبتایا کہ پرواز کے لیے راکٹ کے تمام نوانجن چلانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ راکٹ میں نصب ڈریگن کیپسول کی اس پرواز کے ذریعے، جسے ایک تجرباتی پرواز کہا جارہاہے، 544 کلوگرام سامان خلائی اسٹیشن پر بھیجا جارہاہے۔

تاہم خلائی اسٹیشن کے عملے کو اس سامان کی زیادہ ضرورت نہیں ہے۔

سیپس ایکس کمپنی کو خلائی پروازوں کے لیے امریکی خلائی ادارے ناسا نے 38 کروڑ ڈالر سے زیادہ کی رقوم فراہم کی ہیں۔ ناسا نے اپنی خلائی شٹل گذشتہ سال ریٹائر کردی تھی۔ اور اب وہ روس کے خلائی جہازوں کےذریعے اپنے خلاباز اور سامابین الاقوامی خلائی اسٹیشن بھیج رہاہے۔

XS
SM
MD
LG