رسائی کے لنکس

گذشتہ 23 دنوں کے دوران، پاکستان میں 17 دھماکے ہو چکے ہیں۔ پچھلے پانچ دنوں سے ہر روز کہیں نہ کہیں دھماکا ہوا۔ مجموعی طور پر، 13 دن دھماکوں کے شور میں گزرے، جبکہ صرف 10 دن خاموشی رہی

پاکستان میں دہشت گردی اپنی انتہائی حدوں کو چھو رہی ہے۔ پچھلے پانچ دنوں میں ایک بھی مرتبہ ایسا نہیں ہوا جب ملک میں کہیں کوئی ریموٹ کنڑول یا خود کش دھماکا یا دستی بم حملہ نہ ہوا ہو۔

سال 2014ء کے ابھی صرف 23 دن گزرے ہیں۔ لیکن، واقعات کی بنیاد پر جمع ہونے والے اعداد و شمار کا بغور جائزہ لیں، تو آنکھیں حیرت سے پھٹ جاتی ہیں:

یکم جنوری سے چار جنوری اور پھر 19 تاریخ سے 23 تاریخ تک، مسلسل دھماکے ہوتے رہے، اور درمیان میں کوئی گیپ نہیں آیا۔

’وائس آف امریکہ‘ کی طرف سے یکجا کردہ اعداد و شمار نشاندہی کررہے ہیں کہ 23دنوں میں سے 10 دن دھماکے نہیں ہوئے۔ یعنی پانچ، چھ، سات، نو، دس، گیارہ، تیرہ، چودہ، پندرہ اور اٹھارہ جنوری کو ملکی فضاٴ دھماکوں کے ہوش اڑا دینے والے شور سے محفوظ رہی، جبکہ باقی 13دنوں میں 17دھماکے اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ ملک میں دہشت گردی انتہائی حدوں کو چھو رہی ہے۔

ملکی ماہرین، مبصرین اور سیاسی تجزیہ نگاروں کے نزدیک انتہائی لمحہٴ فکریہ یہ ہے کہ ان دھماکوں سے کوئی جگہ محفوظ نہیں۔ ان دھماکوں کے ذریعے مسافر بسوں اور ٹرینوں کو نشانہ بنایا گیا، حکومتی عہدیدار، وزراٴ، پولیس اہلکار، افسران، حساس اداروں کے سربراہ، رینجرز اور فوج کے اہلکار، ادیب، بلدیاتی امیدوار، پولیو رضاکار، تاجر صنعت کار، عبادت گزار، غیر ملکی سیاح، سیاسی شخصیات اور عام راہگیر مرد، خواتین اور بچے تک ہلاک، زخمی یا معذور ہوئے۔

دہشت گردی کے واقعات کا تاریخ وار جائزہ
یکم جنوری کو کوئٹہ کے علاقے اختر آباد میں ایران سے آنیوالی زائرین کی بس پر خود کش حملے کے نتیجے میں حملہ آور سمیت دو افراد ہلاک جبکہ خواتین اور بچوں سمیت 32 زخمی ہوئے۔

دو جنوری
ٹانک میں وانا روڈ پر پولیس وین پر ریموٹ کنٹرول بم دھماکے میں ایک پولیس اہلکار ہلاک اور تین شدید زخمی ہوگئے۔

تین جنوری
وسطی اورکزئی ایجنسی کے علاقہ مشتی میلہ میں مدرسہ صدیقیہ میں ریموٹ کنٹرول بم دھماکے کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور 3 شدید زخمی ہوئے۔ اسی روز، جمرود میں نامعلوم شرپسندوں نے لڑکیوں کا اسکول دھماکے سے اڑادیا، جبکہ پشاور کے علاقے بڈھ بیر میں دھماکے سے مکان کی چھت گرگئی، جس کے نتیجے میں دوخواتین زخمی ہوگئیں۔

چارجنوری
نصیر آباد اور کوئٹہ میں دو بم دھماکوں میں دو افراد جاں بحق، جبکہ وزیراعلیٰ بلوچستان کے مشیر برائے زکوٰة و حج اور رکن صوبائی اسمبلی میر ماجد ابڑو زخمی ہوگئے۔

آٹھ جنوری
آئی ایس پی آر کے مطابق، جنوبی وزیرستان کے علاقے لدھا میں گرین رج فوجی چیک پوسٹ پر حملے میں تین فوجی مارے گئے۔ اسی روز ملیر، کراچی میں مسجد کی چھت پر دستی بم پھٹنے سے تین افراد زخمی ہوگئے، جبکہ کراچی کے ہی ایک اور علاقے لانڈھی کی فیوچر کالونی میں اے این پی کے مقامی رہنما اپنے گھر پر دستی بم حملے کے نتیجے میں زخمی ہوگئے۔

بارہ جنوری
وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کے مشیر امیرمقام کے قافلے کو بم حملے کا نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے وہ تو محفوظ رہے، تاہم چھ پولیس اہلکار ہلاک اور چار زخمی ہوگئے۔

سولہ جنوری
پشاور کے تبلیغی مرکز اور مسجد میں دھماکے کے نتیجے میں آٹھ افراد ہلاک اور 60زخمی ہوگئے ۔

سترہ جنوری
راجن پور کے قریب پشاور سے کراچی جانے والی خوشحال خان ایکسپریس کو کوٹلہ حسن شاہ کے مقام پر ریموٹ کنٹرول بم سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں چار مسافر جاں بحق اور 60 زخمی ہو گئے۔

انیس جنوری
خیبر پختونخواہ کے شہر بنوں میں سیکورٹی فورسز کے قافلے میں دھماکے کے نتیجے میں 20 اہلکار ہلاک اور 25 سے زائد زخمی ہوگئے۔

بیس جنوری
راولپنڈی میں فوجی ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) کے قریب، خود کش حملے میں سات فوجیوں سمیت 14 افراد مارے گئے، جبکہ 33 سے زائد زخمی ہوئے۔

اکیس جنوری
بلوچستان کے شہر مستونگ سے تقریباً پندرہ کلومیٹر دور ایران سے آنیوالے زائرین کے قافلے پر خودکش حملے میں 25 افرادہلاک اور 41 زخمی ہوگئے۔

بائیس جنوری
چارسدہ میں پولیو ٹیم کی حفاظت پر مامور پولیس موبائل کو سائیکل بم حملے اور مستونگ میں سکیورٹی فورسز پر دہشت گردوں کے علیحدہ علیحدہ حملوں کے نتیجے میں ایک بچہ اور 12 پولیس و لیویز اہلکار ہلاک ہوگئے، جبکہ دو لیویز اہلکاروں کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ ان حملوں میں اسپین کے ایک سائیکلسٹ سمیت 21 افراد زخمی بھی ہوئے۔

23جنوری
پشاور کے علاقے اسکیم چوک پر واقع ایک ورکشاپ میں دھماکے کے نتیجے میں چھ افراد ہلاک اور چھ زخمی ہوئے۔

سال 2013، کااحوال
اسلام آباد میں قائم تھنک ٹینک، ریسرچ ادارے ’پاک انسٹیٹیوٹ فار پیس سٹڈیز‘ کی سالانہ پاکستان سیکورٹی رپورٹ 2013 ءکے مطابق، پاکستان میں سال 2013 ءمیں مجموعی طور پر 1717 دہشت گرد حملوں میں 2451 افراد جاں بحق اور 5438 زخمی ہوئے تھے۔ رپورٹ کے مطابق، مجموعی طور ملک کے 50 اضلاع میں 645 حملے ہوئے، جن میں 732 شہری اور 425 سیکیورٹی فورسز کے جوان نشانہ بنے۔

سنہ 2013 میں فرنٹیئر کور بلوچستان پر شرپسندوں کے 533 حملے ہوئے، جن میں 51 اہلکار جاں بحق ہوئے۔

رپورٹ کے مطابق، گزشتہ برس صرف بلوچستان میں مجموعی طور پر 65حملے ہوئے تھے جن میں 9 خودکش تھے۔ چار حملے تعلیمی اداروں پر اور 19حملے نیٹو قافلوں پر ہوئے۔ اسی طرح، صوبے میں فرقہ وارانہ دہشتگردی سے متعلق 33واقعات پیش آئے۔

پولیومہم‘18ماہ میں 31افرادہلاک
ملک میں گزشتہ 18 ماہ میں، انسداد پولیو مہم کے دوران، 31 افراد کو ہلاک کیا گیا۔

وزیراعظم کے پولیو مانیٹرنگ سیل کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق، 17 جولائی 2012ء سے جنوری 2014ء تک دہشت گردوں نے 31 افراد کو ہلاک کیا، جن میں 21 پولیو ورکرز اور 10 پولیس اہلکار شامل ہیں۔
XS
SM
MD
LG