رسائی کے لنکس

ذوالقرنین حیدر پر 5 لاکھ جرمانہ، کرکٹ کھیلنے کی اجازت


ذوالقرنین حیدر پر 5 لاکھ جرمانہ، کرکٹ کھیلنے کی اجازت

ذوالقرنین حیدر پر 5 لاکھ جرمانہ، کرکٹ کھیلنے کی اجازت

پاکستان کرکٹ بورڈ نے قومی ٹیم کے سابق وکٹ کیپر ذوالقرنین حیدر پر پانچ لاکھ روپے جرمانہ عائد کرتے ہوئے انہیں دوبارہ کرکٹ کھیلنے کی اجازت دیدی ہے۔ تاہم بورڈ کی جانب سے ان کے رویے کو آئندہ ایک سال تک مانیٹر کیا جائے گا۔

ذوالقرنین حیدر گزشتہ سال نومبر میں پاکستان اور جنوبی افریقہ کے مابین دبئی میں ہونے والی ایک روزہ میچوں کی سیریز کے دوران اچانک ٹیم کا ساتھ چھوڑ کر لندن چلے گئے تھے۔

لندن پہنچنے کے بعد ذوالقرنین کا کہنا تھا کہ میچ فکسرز کی جانب سے انہیں اور ان کے اہلِ خانہ کو قتل کی دھمکیاں دی جارہی تھیں جس کے باعث انہیں قومی ٹیم کا ساتھ چھوڑ کا لندن آنا پڑا۔

بعد ازاں حیدر نے برطانیہ میں سیاسی پناہ کی درخواست بھی دائر کردی تھی جس میں انہوں نے موقف اختیار کیا تھا کہ پاکستان میں ان کی جان کو خطرہ ہے لہذا وہ واطن واپس نہیں جاسکتے۔ تاہم پاکستانی وزیرِداخلہ رحمن ملک کی جانب سے سیکیورٹی فراہم کرنے کی یقین دہانی کے بعد ذوالقرنین اپریل میں پاکستان لوٹ آئے تھے۔

حیدر کی وطن واپسی کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے ان کے معاملے کے جائزے کیلیے ایک انضباطی کمیٹی قائم کرتے ہوئے انہیں اس کے سامنے پیش ہونے کا حکم دیاتھا۔

جمعہ کے روز انضباطی کمیٹی کے اجلاس کے بعد کمیٹی کے سربراہ سلطان رانا نے ذوالقرنین کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سابق وکٹ کیپر نے اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے معافی مانگ لی ہے اور بورڈ پر لگائے گئے تمام الزامات واپس لے لیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کمیٹی نے ذوالقرنین کے حالات کو دیکھتے ہوئے ہمدردی کی بنیاد پر معاملہ نبٹانے کا فیصلہ کرتے ہوئے ان پر پانچ لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا ہے۔

سلطان رانا نے کہا کہ ذوالقرنین حیدر کرکٹ میں واپس آسکتے ہیں اور وہ قومی ٹیم کیلیے کھیلنے کے بھی اہل ہیں تاہم ان کے رویے کو ایک برس تک مانیٹر کیا جائے گا۔

اس موقع پر ذوالقرنین کا کہنا تھا کہ دبئی میں قومی ٹیم کا ساتھ چھوڑ کر جانا ان کی غلطی تھی اور انہیں اپنے خدشات اسی وقت ٹیم کی منیجمنٹ سے رابطہ کرکے انہیں بتادینے چاہیے تھے۔

حیدر کا کہنا تھا کہ انہوں نے کمیٹی کے سامنے تسلیم کرلیا ہے کہ وہ قواعدوضوابط کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے اور اب وہ اس معاملے کو ختم کرتے ہوئے اپنی تمام تر توجہ کرکٹ پر مرکوز کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ انہوں نے کمیٹی سے اپنے معاملے پر ہمدردانہ غور کرنے کی درخواست کی تھی کیونکہ ان کے بقول "میرے والد کینسر کے مریض ہیں اور انہیں میری مدد اور سہارے کی ضرورت ہے"۔

XS
SM
MD
LG