رسائی کے لنکس

سری لنکا: انتخابی مہم ختم، ووٹ ڈالنے کی تیاری


سری لنکا: انتخابی مہم ختم، ووٹ ڈالنے کی تیاری

سری لنکا: انتخابی مہم ختم، ووٹ ڈالنے کی تیاری


سری لنکا کے لوگ 25 سال سے زیادہ عرصے تک ملک میں خانہ جنگی اور مئى 2009 میں تامل ٹائیگر باغیوں کی شکست کے بعد منگل کے روز ملک کے پہلے صدارتی انتخاب میں ووٹ ڈال رہے ہیں۔

خانہ جنگی میں فتح کی قیادت کے دو دعوے دار، صدر مہندا راجاپاکسے اور فوج کے سابق سربراہ سرتھ فان سیکا اس الیکشن میں ایک دوسرے کے مقابل ہیں ۔ دونوں امیدواروں نے ایک دوسرے پر جنگی جرائم، بدعنوانی اور نااہلی کے الزامات عائد کیے ہیں ۔

کولمبو میں قائم انتخابات میں تشدّد کی نگرانی کے مرکزکا کہنا ہے کہ اُسے اس بات پر گہری تشویش ہے کہ انتخابی مہم کے دوران انتخابی عمل کی دیانت کو چیلنج کیا گیا ہے ۔

ادارے کا کہنا ہے کہ اُسے بذریعہ ڈاک ووٹنگ میں بے قاعدگیوں، انتخابی مہم میں فوج کے موجودہ افسروں کی مداخلت اور سرکاری وسائل کے ناجائز استعمال کے الزامات پر تشویش ہے۔

صدر راجا پاکسے نے ہفتے کے روز انتخابی مہم ختم ہونے سے پہلے اپنی آخری تقریر میں وعدہ کیا ہے کہ وہ اُن لاکھوں تامل لوگوں کو گلے لگائیں گے جو خانہ جنگی کے آخری مہینوں کی افرا تفری کے بعد سے ابھی تک بے گھر ہیں۔

اور حزبِ اختلاف کی مختلف پارٹیوں کے ایک اتحاد کے اُمید وار فان سیکا نے پیش گوئى کی ہے کہ پولنگ کے دن بہت تشدّد ہوگا اور صدر کے حامی ، اُن کے حامیوں کو ووٹ ڈالنے سے روکنے کی کوشش کریں گے۔
دونوں اُمیدواروں نے اس اعتماد کا اظہار کیا ہے کہ وہ الیکشن میں جیتیں گے۔

بین الاقوامیں ایجنسیوں اور امداد دینے والے ملکوں نے اس اُمید کا اظہار کیا ہے کہ جو کوئى بھی کامیاب ہوگا ، وہ اُجڑے ہوئے تامل لوگوں کو تیزی کے ساتھ بحال کرنے، قومی معاملات میں فوج کے غلبے کو کم کرنے اور جمہوری حقوق کے تحفظ کے مقصد سے اصلاحات کو عمل میں لانے کے لیے کام کرے گا۔

XS
SM
MD
LG