رسائی کے لنکس

موجودہ صدر سریسینا، جو کہ راجاپاکسا کے دور اقتدار میں وزیر صحت کے طور پر فرائض انجام دے چکے ہیں، نے کہا ہے کہ اگر راجاپاکسا انتخابات میں اکثریت حاصل بھی کر لیتے ہیں تو وہ انھیں وزیراعظم مقرر نہیں کریں گے۔

سری لنکا میں پیر کو پارلیمانی انتخابات کے لیے ووٹ ڈالے جا رہے ہیں جو سابق صدر مہندا راجاپاکسا کے بطور وزیراعظم ملکی سیاست میں واپسی کے لیے بھی اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔

پولنگ کا عمل صبح سات بجے شروع ہوا اور پارلیمنٹ کی 225 نشستوں پر امیدواروں کے انتخاب کے لیے لوگوں کی ایک بڑی تعداد صبح سویرے ہی سے پولنگ اسٹیشن کے باہر جمع ہونا شروع ہو گئی۔

راجاپاکسا کو رواں سال جنوری میں میتھری پالا سریسینا کے ہاتھوں صدارتی انتخاب میں شکست ہوئی تھی۔

موجودہ صدر سریسینا، جو کہ راجاپاکسا کے دور اقتدار میں وزیر صحت کے طور پر فرائض انجام دے چکے ہیں، نے کہا ہے کہ اگر راجاپاکسا انتخابات میں اکثریت حاصل بھی کر لیتے ہیں تو وہ انھیں وزیراعظم مقرر نہیں کریں گے۔

تجزیہ کار انتخابات کو راجاپاکسا کی مقبولیت کے بارے میں ریفرینڈم سے تعبیر کر رہے ہیں۔

سابق صدر خاص طور پر سنہالی نسل کے قبائل میں خاصے مقبول ہیں جس کی وجہ ملک سے تقریباً 37 سال سے جاری تامل باغیوں کی عسکریت پسندی کو ختم کرنے میں ان کا کردار ہے۔

اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق اس باغی تحریک اور اس کے خلاف آپریشن میں تقریباً چالیس ہزار تامل شہری ہلاک ہوئے۔

جنوری کے صدارتی انتخابات میں تامل کی اکثریت نے سریسینا کو ووٹ دیے تھے اور یوں راجاپاکسا تیسری مدت کے لیے عہدہ صدارت حاصل کرنے میں ناکام رہے تھے۔

پیر کو ہونے والے انتخابات کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے اور ہزاروں سکیورٹی اہلکاروں کو ملک کے طول و عرض میں تعینات کیا گیا ہے۔

چیف الیکشن کمشنر مہندا دیشاپریا نے سرکاری ٹی وی سے گفتگو میں کہا کہ "جو بھی کوئی مسئلہ کھڑا کرنے کی کوشش کریں گے وہ دوپہر کا کھانا پولیس اسٹیشن اور رات کا جیل میں کھائیں گے۔"

XS
SM
MD
LG