رسائی کے لنکس

ایک 48 سالہ ٹرک ڈرائیور نے بتایا کہ اس کے گھر کے پانچ افراد مٹی کے تودے تلے دب کر مر گئے ہیں۔ ان میں اس کی بیوی، دو بیٹے، ایک بہو اور ایک چھ ماہ کا پوتا شامل ہیں۔

سری لنکا میں حکام کا کہنا ہے کہ جنوب وسطی علاقے میں مٹی کے تودے تلے دبے افراد میں سے کسی کے زندہ بچنے کے امکانات نا ہونے کے برابر ہیں جس کی وجہ سے ہلاکتوں کی تعداد ایک سو تک ہو سکتی ہے۔

آفات سے نمٹنے کے وزیر مہندا اماراویرا نے جمعرات کو ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ "میرا نہیں خیال کہ یہاں کوئی زندہ بچا ہوگا۔۔۔لگ بھگ ایک سو افراد تودے تلے دب گئے تھے کیونکہ جب یہ گرا تو اس وقت بہت سے بچے اور بعض سرکاری ملازمین اپنے گھروں میں نہیں تھے۔"

بدھ کو ہلڈم ملا نامی چائے کی کاشت والے اس علاقے میں شدید بارشوں کے باعث مٹی کا تودہ گرا تھا جس کے بارے میں بتایا گیا کہ اس نے تقریباً تین کلومیٹر تک کے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لیا۔

گزشتہ رات حکام نے ہلاکتوں کی تعداد 300 تک بتائی تھی لیکن بعدازاں اعداد و شمار جمع کر کے کہا گیا کہ یہ تعداد ایک سو تک ہو سکتی ہے۔

علاقے میں فوج کے تقریباً پانچ سو اہلکار اور دیگر متعلقہ اداروں کے امدادی کارکن جمعرات کو بھی علاقے میں امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔

علاقے سے تعلق رکھنے والے ایک 48 سالہ ٹرک ڈرائیور نے خبر رساں ایجنسی "ایسوسی ایٹڈ پریس" کو بتایا کہ اس کے گھر کے پانچ افراد مٹی کے تودے تلے دب کر مر گئے ہیں۔ ان میں اس کی بیوی، دو بیٹے، ایک بہو اور ایک چھ ماہ کا پوتا شامل ہیں۔

اپنا نام راجہ بتانے والے اس شخص نے روتے ہوئے کہا کہ " میں صبح سویرے کام کے لیے نکل گیا تھا پھر مجھے فون آیا کہ میرے گھر کے پاس زمین سرک گئی ہے۔ میں واپس آیا لیکن میرے گھر کا کوئی نام و نشان نہیں تھا۔ سب لوگ دفن ہو چکے تھے۔"

وزیر مہندا اماراویرا کا کہنا تھا کہ 2005ء اور 2012ء میں اس گاؤں کے لوگوں کو ہدایت کی گئی تھی کہ یہ مقام تبدیل کر لیں لیکن انھوں نے اس پر کان نہیں دھرا۔

XS
SM
MD
LG