رسائی کے لنکس

علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ بودھو بالا سینا کے حامیوں نے متعدد گھروں کو نذرِ آتش کیا اور مساجد پر حملے کیے۔

حکام کا کہنا ہے کہ جنوبی سری لنکا میں بودھوں اور مسلمانوں کے درمیان ہونے والی جھڑپوں کے دوران تین مسلمان ہلاک اور کم از کم 75 زخمی ہوئے۔

تشدد کی یہ کارروائی اتوار کی شام گئے الوتھگاما اور بیرووالا کے ساحلی قصبوں میں ہوئی، جس سے قبل سخت گیر بودھ گروپ، بودھو بالا سینا (بی بی ایس) نے ایک ریلی نکالی، اور رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ اِس کی وجہ ایک مقامی تنازعہ تھا۔

مکینوں کا کہنا ہے کہ بودھو بالا سینا کے حامیوں نے متعدد گھروں کو نذرِ آتش کیا اور مساجد پر حملے کیے۔

حکام نے اس معروف سیاحتی علاقے میں کرفیو نافذ کر دیا ہے۔

سری لنکا کے وزیر انصاف رؤف حکیم نےبے چینی کو رفع کرنے کے لیے اقدام نہ کرنے کا ذمہ دار اپنی ہی حکومت کو قرار دیا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ ’مسلمان مکینوں کو اضافی تحفظ فراہم کیے بغیر، حکام نے بی بی ایس کو اجتماع کی اجازت دی‘۔

ماضی میں بھی ’بودھو بالا سینا‘ مسلمان مخالف کارروائیوں میں ملوث رہی ہے، جس کے لیے کہا جاتا ہے کہ اُسے حکومت کی حمایت حاصل ہے۔

مسلمانوں اور مسیحیوں کے خلاف تشدد کی کارروائیوں میں ملوث متعدد افراد کو سزا نہیں ہوئی۔

سری لنکا کے صدر، ماہندہ راجاپکسا نے اس بات کا عہد کیا ہے کہ شدت پسندی کے اس واقعے کی تفتیش ہوگی، اور تمام فریقوں سے ضبط کا مظاہرہ کرنے کا مطالبہ کیا۔

بتایا جاتا ہے کہ تقریباً تین عشرے پرانی خانہ جنگی کے خاتمے کے بعد، اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے ضروری اقدام نہ اٹھائے جانے پر، سری لنکا کی حکومت پرنکتہ چینی کا سلسلہ جاری رہا ہے۔

فوج نے مئی 2009ء میں تامل ٹائیگر باغیوں کو شکست دی، جب تنازعے میں دونوں فریق پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا الزام لگایا گیا تھا۔
XS
SM
MD
LG