رسائی کے لنکس

سری لنکا: حکومت پر صحافیوں کے خلاف حملے کرانے کا الزام


سری لنکا: حکومت پر صحافیوں کے خلاف حملے کرانے کا الزام

سری لنکا: حکومت پر صحافیوں کے خلاف حملے کرانے کا الزام


صحافیوں کے حقوق کی ایک بین الاقوامی تنظیم نے سری لنکا کی حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ سخت مقابلے کے حامل صدارتی انتخاب کے بعد صحافیوں کے خلاف ’تشدّد کے واقعات کی لہر‘ کی ذمّے دار ہے۔

رپورٹرز وِدآؤٹ بارڈرز نے صدر مہندا راجا پاکسے سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ نجی ملکیت کے اخباری اداروں اور غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے لیے کام کرنے والے صحافیوں کی پکڑ دھکڑ اور اُنہیں ڈرانے دھمکانے کی کارروائیاں بند کریں۔

تنظیم نے کہا ہے حکومت کی جانب سے تشدّد صدر کی دوسری معیاد کو ہمیشہ کے لیے داغ دار کرسکتا ہے اور یہ آنے والے برسوں میں ملک کے سیاسی ماحول کے لیے بُرا شگون ہے۔

صحافیوں کی تنظیم نے سری لنکا کے صدر سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سیاسی نامہ نگار اور کارٹونسٹ پراگیتھ ایکنالی گوڈا کو تلاش کرنے کے لیے مزید پولیس افسروں کو مامور کریں۔یہ کارٹونسٹ 24 جنوری سے لاپتا ہیں۔

صحافیوں کی تنظیم نے سُوئٹزرلینڈ کی ایک نامہ نگار کی حیثیت کے مسئلے کو بھی اُٹھایا ہے جس کے کام کرنے کے اجازت نامے کو الیکشن کے بعد واپس لے لیا گیا ہے اور جسے اب ممکنہ طور پر ملک سے نکالے جانے کی صورتِ حال کا سامنا ہے۔

کَیرِن وَین گر سُوئٹزرلینڈ کے ایک ریڈیو سٹیشن کی نامہ نگار ہیں۔ انہوں نے تنظیم کو بتایا ہے کہ اُن کا خیال ہے کہ اُنہیں الیکشن کے نتائج کے اعلان کے بعد ایک اخباری کانفرنس میں ایک سوال پوچھنے پر انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔اُنھوں نے بتایا کہ صدر کے ایک مُشیر نے توہین آمیز طریقے سے اُن کا ذکر کرتے ہوئے انہیں ” سفید چہرہ “ کہا تھا۔

سری لنکا کے الیکشن کمیشن نے بدھ کے روز صدر راجا پاکسے کو کئى عشروں بعد ملک میں زمانہٴ امن کے دروان پہلے صدارتی انتخاب میں کامیاب قرار دے دیا تھا۔کمیشن نے کہا تھا کہ راجا پاکسے نے منگل کے الیکشن میں تقریباً58 فیصد ووٹ حاصل کیے جو اُن کے مرکزی حریف اور فوج کے سابق سربراہ سرتھ فان سیکا کے حاصل کردہ ووٹوں سے 17 فیصد زیادہ ہیں۔

تاہم اس کے باوجود مسٹر فان سیکا نے اپنی شکست تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے، اور اُن کا کہنا ہے کہ ووٹنگ میں جعل سازی کی گئى تھی۔

XS
SM
MD
LG