رسائی کے لنکس

سری لنکا: صدارتی اُمیدوار کا بدعنوانیوں کو ختم کرنے کا وعدہ



سری لنکا کی فوج کے سابق سربراہ سرتھ فان سیکا نے جمعرات کے روز منصبِ صدارت کے لیے اپنی انتخابی مہم میں ووٹروں کی حمایت حاصل کرنے کے لیے وعدہ کیا ہے کہ وہ بدعنوانیاں ختم کرنے کی جدّوجہد کریں گے اور ذرائع ابلاغ کی آزادی کی حفاظت کریں گے۔

فان سیکا اُن 21 اُمید واروں میں شامل ہیں، جو 26 جنوری کے صدارتی انتخاب میں موجودہ صدر مہندا راجا پاکسا کو چیلنج کررہے ہیں۔

مسٹر راجا پاکسا اپنی معیادِ صدارت کے ختم ہونے سے تقریباً دو سال پہلے ہی یہ الیکشن کرارہے ہیں۔ وہ اور فان سیکا تامل ٹائیگر باغیوں کے خلاف فتح میں اگرچہ اتحادی تھے لیکن مئى میں تامل ٹائیگر باغیوں کی شکست کے ساتھ 25سال پُرانی جنگی کے ختم ہونے کے بعد دونوں کے درمیان شدید اختلافات پیدا ہوگئے۔

فان سیکا نے جمعرات کے روز کہا ہے کہ وہ حکومت کے اندر بدعنوانیوں کو کچلنے کی مہم کی قیادت کریں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر وہ منتخب ہوگئے تو وہ ملک کی اُس پریس کونسل کو ختم کردیں گے، جسے صحافیوں پر ایسی پابندیاں لگانے کا اختیار حاصل ہے کہ وہ کیا رپورٹ کرسکتے ہیں اور کیا نہیں۔

بدھ کے روز تامل لوگوں کی سیاسی پارٹیوں کے ایک گروپ نے الیکشن میں فان سیکا کی حمایت کرنے کا اعلان کیا تھا۔

تامل پارٹیوں کے اتحاد کے لیڈر آر۔ سپنتَھم نے کہا ہے کہ تاملوں کے انسانی حقوق کی مبیّنہ پامالیوں پر تشویش کی وجہ سے اُن کا گروپ مسٹر راجاپاکسا کی حمایت نہیں کرسکتا۔ انہوں نے کہا ہے کہ دونوں اُمید واروں سے ملاقات کے بعد گروپ اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ فان سیکا اُن کی ضرورتوں پر زیادہ دھیان دیں گے۔

اقوامِ متحدہ نے بدھ کے روز کہا تھا کہ اُسے عنقریب ہونے والے صدارتی انتخاب کے موقعے پر مبصّرین بھیجنے کے مقصد سے سری لنکا کی حکومت کی درخواست قبول کرلینے کے لیے کافی وقت نہیں دیا گیا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ عالمی ادارے نے سری لنکا کے الیکشن کمیشن کو اپنے فیصلے سے آگاہ کردیا ہے۔

XS
SM
MD
LG