رسائی کے لنکس

تامل اقلیت پر سری لنکا کے مبینہ مظالم کی تحقیقات

  • ہنری رجول

ہیومن رائٹس واچ نامی گروپ کا کہنا ہے کہ تاملوں کے ساتھ زیادتیاں خانہ جنگی ختم ہونے کے کافی عرصے بعد ہوئیں۔ بہت سے کیسوں میں ان کا مقصد معلومات حاصل کرنا یا اقرارِ جرم کے لیے مجبور کرنا تھا ۔

کچھ ایسی تصویریں ملی ہیں جن سے 2009 میں سری لنکا کے باغی لیڈر کے بیٹے کی موت کے بارے میں سوالات پیدا ہوئے ہیں۔ یہ تصویریں جنیوا میں اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل میں دکھائی جائیں گی جہاں سری لنکا کی تامل اقلیت کے خلاف مبینہ مظالم پر بات چیت ہوگی ۔ سری لنکا نے کونسل پر جانبداری کا الزام لگایا ہے ۔

جرنلسٹس فار ڈیموکریسی ان سری لنکا نامی گروپ کا کہنا ہے کہ ان تصویروں میں تامل ٹائیگرز کے آنجہانی لیڈر کے بیٹے بالا چندرن پربھاکرن کو مئی 2009 میں پولیس کی تحویل میں دکھایا گیا ہے ۔

صحافی کہتے ہیں کہ دو گھنٹے بعد لی گئی ایک اور تصویر میں، اسی 12 سالہ لڑکے کو زمین پر پڑ ہوئے مردہ حالت میں دکھایا گیا ہے ۔ اس کے سینے میں پانچ گولیوں کے زخم نظر آرہے ہیں۔

ایمنیسٹی انٹرنیشنل انڈیا کے جی اننتھاپاڑمانابھن کہتے ہیں کہ ان تصویروں اور ان کے بارے میں وڈیو سے حکومت کے ان بیانات کی نفی ہوتی ہے کہ یہ لڑکا گولیوں کے تبادلے میں ہلاک ہوا۔

’’ہم سمجھتے ہیں کہ یہ تصویریں اور وڈیو ایسے قابلِ اعتبار ثبوت ہیں جن کی مزید تفتیش ہونی چاہیئے ۔ اس مرحلے پر ہم یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ کیا ہوا تھا ۔ یہ بات اپنی جگہ درست ہے، لیکن یہ تصور ہی ہولناک ہے کہ ایک 12 سالہ لڑکے کو اس بیدردی سے ہلاک کیا جاسکتا ہے ۔‘‘

قتل کی یہ مبینہ واردات اس شدید لڑائی کے زمانے میں ہوئی جب حکومت اور مسلح تامل علیحدگی پسندوں یعنی ایل ٹی ٹی ای کے درمیان جنگ ختم ہونے والی تھی ۔

بھارت میں سری لنکا کے ہائی کمشنر پرشاد کریاواسم کو ان تصویروں کی صداقت پر شبہ ہے۔ وہ کہتے ہیں’’یہ تصویریں قابلِ اعتبار نہیں ہیں اور ہم انہیں مکمل طور سے مسترد کرتے ہیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ پربھا کرن کا بیٹا ہلاک ہوا، لیکن اس کی جان اس جنگ میں گئی جو اس وقت جاری تھی ۔‘‘

ہیومن رائٹس واچ نامی گروپ کا کہنا ہے کہ تاملوں کے ساتھ زیادتیاں خانہ جنگی ختم ہونے کے کافی عرصے بعد ہوئیں۔ بہت سے کیسوں میں ان کا مقصد معلومات حاصل کرنا یا اقرارِ جرم کے لیے مجبور کرنا تھا ۔ اس گروپ نے جو وڈیو بنائے ہیں ان میں متاثرین کی پشت پر زخموں کے نشان ہیں۔ ایک شخص نے جسے’ڈے کے‘ کا نام دیا گیا ہے، بتایا کہ اسے 2012 میں اذیتیں دی گئی تھیں۔

اس نے کہا کہ ’’انھوں نے میری شدید پٹائی کی ۔ میری پشت پر سگریٹ جلائے ۔ مجھے الٹا لٹکا کر مارا پیٹا ۔ میرے سارے جسم پر زخموں کے نشان تھے ۔ انھوں نے میرا سر پانی میں ڈبو دیا۔‘‘

ڈیوڈ میفم ہیومن رائٹس واچ کے یو کے ڈائریکٹر ہیں ۔ وہ کہتے ہیں ’’ہمارے پاس 75 ایسے کیس ہیں جن میں ہمیں یقین ہے کہ ثبوت بالکل واضح ہے کہ ان لوگوں کی آبرو ریزی کی گئی اور جنسی تشدد کیا گیا ۔ اور بیشتر کیسوں میں یہ تشدد سری لنکا کی سیکورٹی فورسز نے کیا۔‘‘

سری لنکا نے کہا ہے کہ یہ تمام الزامات من گھڑت ہیں اور ان تاملوں نے لگائے ہیں جو بیرونی ملکوں میں پناہ کے خواہش مند ہیں۔

مسلسل دوسرے سال بھی، امریکہ نے اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل میں ایک قرارداد پیش کی ہے جس میں سری لنکا سے کہا گیا ہے کہ وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کرے ۔

انسانی حقوق کے بارے میں سری لنکا کے صدارتی نمائندے مہندا ساماراسنگے کہتے ہیں کہ اقوامِ متحدہ کی کونسل جانب داری سے کام لے رہی ہے ۔ ’’ہم نے بات چیت کے لیے اور مجوزہ حل پر عمل در آمد کے لیے بعض ضابطے اور طریقے وضع کیے ہیں ۔ تا ہم ، ہم سے کہا جا رہا ہے کہ ہم نے جو راستہ اختیار کیا ہے ، شاید وہ غلط ہے ۔ اس میں بعض نقائص ہیں ۔ ہمیں لیکچر دیا جانا چاہیئے یا صحیح طریقوں کی تعلیم دی جانی چاہیئے۔ ہمیں ایسے لوگ یہ چیزیں سکھائیں گے جو ہماری تاریخ، ثقافت یا سماجی سیاسی پس منظر کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔‘‘

اس سال نومبر میں سری لنکا دولتِ مشترکہ کی سربراہ کانفرنس کی میزبانی کرنے والا ہے۔ کینیڈا نے دھمکی دی ہے کہ اگر کولمبو نے مظالم کے الزامات پر توجہ نہ دی، تو وہ اس میٹنگ کا بائیکاٹ کر دے گا۔
XS
SM
MD
LG