رسائی کے لنکس

سری نگر میں مظاہرے اور کرفیو، ایک شخص ہلاک

  • یوسف جمیل

نئی دہلی کے زیر انتظام کشمیر میں مظاہروں اور ہڑتالوں کاسلسلہ سری نگر کے کئی علاقوں میں پھیل گیا ہے۔اور تقریباً ایک ہفتے کے بعد اتوار کے روزبازاروں میں لوٹ آنے والی گہما گہمی پھر سےمعدوم پڑ گئی ہے۔

استصواب رائے کا مطالبہ کرنے والے کشمیری جماعتوں کے اتحاد حریت کانفرنس نےلوگوں سے صرف ایک دن کے لیے کاروبار زندگی بحال کرنے کو کہا تھا اور انہی کی طرف سے جاری کردہ ہڑتالوں اور احتجاجی مظاہروں کے ایک نئے کلینڈر کے تحت پیر کو مسلم اکثریتی وادی کشمیر میں عام ہڑتال کی گئی۔ جس کے دوران متعدد مقامات پرمظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔

مقامی انتظامیہ نے صورت حال پر کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے مظاہروں سے قبل ہی دارالحکومت سری نگر کے قدیمی شہر کے کئی پولیس تھانوں کے تحت آنے والے علاقوں میں کرفیو نافذ کردیا۔

پیر کے روزمظاہرین کی طرف سے پولیس پر پتھراؤ کرنے اور پولیس والوں کی طرف سے طاقت کے استعمال کے نتیجے میں درجن بھر افراد جن میں ایک پولیس افسر بھی شامل ہے، زخمی ہوگئے۔

سری نگر جموں شاہراہ پر واقع پاپور کے علاقے میں طرفین کے درمیان ایک جھڑپ کے دوران ایک ایسی مسافر گاڑی بھی زد میں آگئی جس میں امرناتھ مندر کی یاترا پر آنے والے ہندو زائرین سوار تھے، جس سے ایک خاتون اورا س کی سات سالہ بچی زخمی ہوگئی۔

ادھر شمالی کشمیر میں ایک کشمیری نوجوان کی پولیس کی حراست میں ہلاکت کے بعد تناؤ میں اضافہ ہوا ہے۔عہدے داروں کا اصرار ہے کہ طارق احمد ڈار نامی یہ نوجوان عسکری تنظیم لشکر طیبہ کا رکن تھا اور اسے پازیلا نامی گاؤں میں فائرنگ کے ایک حالیہ واقعہ میں گرفتار کرکے مقامی پولیس تھانے کے لاک اپ میں بند کیا گیا، جہاں اس نے خودکشی کرلی۔

مقامی لوگوں نے اسے ماورائے عدالت قتل کا واقعہ قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ مرنے والے نوجوان کے جسم پر اذیت کے واضح نشان موجود تھے ۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ کا انتظار ہے جب کہ حکومت نے واقعہ کی عدالتی تحقیقات کا حکم جاری کردیا ہے۔

XS
SM
MD
LG