رسائی کے لنکس

ترنگا لہرانے کا معاملہ: جموں میں مظاہرے اور گرفتاریاں

  • یوسف جمیل

بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے تین سرکردہ لیڈر سشما سوراج، ارون جیٹلے اور انند کمار پیر کو ایک خصوصی پرواز کے ذریعے جموں پہنچے، جنھیں شہر کے ہوائی اڈے پر روک لیا گیا۔

یہ تینوں لیڈر بی جے پی کے یوتھ وِنگ کے اُس لانگ مارچ کی قیادت کرنے والے تھے جو کولکتہ سے شروع ہوکر بھارتی کشمیر کی حدود میں داخل ہونے والا ہے اور پھر سری نگر پہنچ کر قومی پرچم لہرانے کے ساتھ اختتام پذیر ہوگا۔

لیکن، صوبائی حکومت نے اِس خدشے کے پیشِ نظر کہ وادیٴ کشمیر میں امن و امان درہم برہم ہوسکتا ہے اِس کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ کیا۔

نہ صرف لال چوک پر پولیس اور نیم فوجی دستوں کا کڑا پہرا بٹھا دیا گیا ہے بلکہ بھارتی پنجاب کے ساتھ ملنے والی سرحد کو سیل کر دیا گیا ہے۔جموں سری نگر شاہراہ پر جگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی کردی گئی ہیں۔اعلان کیا گیا ہے کہ شاہراہ منگل کو بند رہے گی۔

جموں اور سری نگر میں بی جے پی کے کئی لیڈروں اور کارکنوں کو حراست میں لیا گیا ۔

جموں پہنچنے والے پارٹی لیڈروں کو اگرچہ ہوائی اڈے سے اتر کر ایئر پورٹ کی عمارت میں جانے کی اجازت دی گئی ہے جہاں وہ احتجاجی دھرنے پر بیٹھ گئے ہیں۔

عہدے داروں نے یہ واضح کیا ہے کہ اُنھیں یاترا میں شامل ہونے کی اجازت دی جائے گی اور نہ سری نگر جاکر ترنگا لہرانے کی۔ جس کے بعد، بی جے پی کے کارکنوں کی ایک بڑی تعداد نے ہوائی اڈے کے باہر جمع ہوکر مظاہرے شروع کردیے ہیں۔

اُدھر، سری نگر میں بھی پکڑ دھکڑ کا سلسلہ جاری ہے۔ کئی دوسرے آزادی پسند لیڈروں کو احتیاطی حراست میں لیا گیا ہے۔

بھارتی وزیرِ اعظم من موہن سنگھ نے اپیل کی تھی کہ قومی دِن اور قومی پرچم کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے سے گریز کیا جائے۔

XS
SM
MD
LG