رسائی کے لنکس

راہگیر کی شناخت سجاد حسین شیخ کے طور پر کی گئی ہے۔ جو گولی لگنے سے موقعے ہی پر چل بسا۔ عینی شاہدین کے مطابق، 'بی ایس ایف' کی دو گاڑیاں علاقے سے گزر رہی تھیں کہ ان پر نو عمر لڑکوں نے سنگ باری کی، جس کے جواب میں گاڑیوں میں سوار سپاہیوں نے فائر کھولا

بھارتی زیرِ انتظام کشمیر کے گرمائی دارالحکومت سرینگر کے ایک رہائشی علاقے میں سنیچر کی شام مبینہ طور پر سرحدی حفاظتی دستے (بی ایس ایف) کی گولی لگنے سے ایک نوجوان ہلاک ہوگیا۔

عینی شاہدین کے مطابق، 'بی ایس ایف' کی دو گاڑیاں علاقے سے گزر رہی تھیں کہ ان پر نو عمر لڑکوں نے سنگ باری کی، جس کے جواب میں گاڑیوں میں سوار سپاہیوں نے فائر کھولا۔

بتایا جاتا ہے کہ ایک گولی ایک راہگیر، جس کی شناخت سجاد حسین شیخ کے طور پر کی گئی ہے، کے سر میں جا لگی اور وہ موقعے ہی پر چل بسا۔

ایک اطلاع میں بتایا گیا ہے کہ اس واقعے میں ایک اور شہری زخمی ہوگیا۔ تاہم، عہدیداروں نے اس کی تصدیق نہیں کی۔

سرینگر میں پولیس کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ واقعے کی تفصیلات اکٹھی کی جا رہی ہیں اور یہ پتہ لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ سجاد کی ہلاکت کس طرح واقع ہوئی۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ضلعی پولیس انتظامیہ نے مطلع کیا ہے کہ جس علاقے میں یہ واقعہ پیش آیا وہاں حفاظتی دستے تعینات نہیں تھے۔ تاہم، معاملے کی تحقیقات ہو رہی ہے۔ اس واقعے کے بعد، سرینگر کے چند علاقوں میں لوگوں نے سڑکوں پر آکر احتجاج کیا ہے، جبکہ مارے گئے شخص کی تدفین میں سوگواروں کی ایک بڑی تعداد نے حصہ لیا، جس موقعے پر بھارت مخالف نعرے لگائے گئے۔

ذرائع کے مطابق، حفاظتی دستوں نے کم سے کم دو مقامات پر مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے اشک آور گیس چھوڑی۔

اس سے پہلے جنوبی شہر پلوامہ میں ایک مقامی کالج کے طلبہ اور طالبات مظاہرین پر حفاظتی دستوں کے طرف سے طاقت کے استمعال کے نتیجے میں پچاس سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ یہ طالبعلم گورنمنٹ ڈگری کالج پلوامہ کے مرکزی دروازے کے باہر تعینات کئے گئے حفاظتی دستوں کی جانب سے انہیں مبینہ طور پر ہراسان کرنے کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔

ان کے نمائندوں نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے الزام لگایا کہ حفاظتی دستوں نے پُرامن مظاہرین پر طاقت کا بے تحاشا استعمال کیا۔

سرینگر میں پولیس کے ترجمان نے بتایا ہے کہ پولیس نے کالج کیمپس سے تقریبا" دو سو میٹر دور ناکہ بٹھایا تھا اور جب کلاس ورک ختم ہوگیا۔ ترجمان کے الفاظ میں ''چند شرپسندوں نے ناکہ پارٹی پر پتھر پھینکنا شروع کئے۔ صورتِ حال پر قابو پانے کے لئے حفاظتی کمک علاقے میں روانہ کردی گئی۔ اس دوران ہجوم میں اضافہ ہوتا گیا، کیونکہ مزید طلبہ اس میں شامل ہوگئےاور انہوں نے حفاظتی دستوں پر سنگباری تیز کردی۔ نتیجتا"، چند شرپسند اور پولیس والے زخمی ہوگئے۔ ان میں سے ایک شخص کو سرینگر ریفر کرنا پڑا''۔

ترجمان نے یہ بھی کہا کہ ''پولیس نے کوئی چھاپہ نہیں مارا اور اس سلسلے میں جو ویڈیو سوشل میڈیا پر ڈالی گئی ہے وہ پلوامہ کی نہیں ہے''۔

رات دیر گئے پلوامہ کے قصبیار علاقے میں نامعلوم مصلح افراد نے دو شہریوں کو نزدیک سے گولیاں مار کر شدید طور پر زخمی کر دیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ان میں سے ایک، بشیر احمد ڈار ایک قرہبی اسپتال میں دم توڑ بیٹھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG