رسائی کے لنکس

محکمہ خارجہ کی عہدیدار پر چینی انٹیلی جنس اہلکار سے رابطے کا الزام


امریکی محکمہ خارجہ کی عمارت (فائل فوٹو)

محکمہ انصاف کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ انہوں نے "اپنی حیثیت اور حساس سفارتی معلومات تک رسائی کو اپنے ذاتی مفاد میں استعمال کیا ہے۔"

امریکہ کی وزارت خارجہ کے لیے ایک طویل عرصے سے کام کرنے والی ایک عہدیدار کو چینی انٹیلی جنس اہلکاروں سے متعدد رابطوں اور ان سے تحائف لینے کی بابت جھوٹ بولنے پر گرفتار کر لیا گیا ہے۔

محکمہ انصاف کا کہنا ہے کہ کینڈس میری کلے بورن نے ایک وفاقی جج کے سامنے ان الزامات کی صحت سے انکار کیا ہے۔

کلے بورن 1999ء سے محکمہ خارجہ کے ساتھ دفتری انتظامات کی ماہر کے طور پر وابستہ رہیں ہیں۔ انہیں اعلیٰ سطح کی سکیورٹی کلیئرنس حاصل تھی اور وہ بغداد، خرطوم اور شنگھائی اور بیجنگ میں امریکہ کے سفارت خانوں اور مشنز میں تعینات رہی ہیں۔

استغاثہ نے الزام عائد کیا ہے کہ چین میں تعیناتی کے دوران چینی عہدیداروں نے انہیں ہزاروں ڈالر مالیت کے تحائف دیئے جن میں نقد رقم، کمپیوٹر اور (رہنے کے لیے) ایک اپارٹمنٹ بھی شامل ہے۔

استغاثہ کا کہنا ہے کہ چینی انٹیلی جنس کے اہلکاروں نے رقم کے عوض کلے بورن سے امریکہ اور چین کی اقتصادی کانفرنس سے متعلق چینی حکومت کو اندورنی معلومات یا تجزیہ فراہم کرنے کے لیے کہا۔

کلے بورن پر امریکہ کے وفاقی تحقیقاتی ادارے ’ایف بی آئی‘ کو ان کے چینی رابطوں سے متعلق آگاہ کرنے میں ناکام رہنے کا الزام عائد کیا جاتا ہے، جو اعلیٰ حساس سکیورٹی کلیئرنس کے تحت (ایسا کرنا) ضروری ہے۔

محکمہ انصاف کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ انہوں نے "اپنی حیثیت اور حساس سفارتی معلومات تک رسائی کو اپنے ذاتی مفاد میں استعمال کیا ہے۔"

اگر کلے بورن کو ان افعال کا مرتکب قرار دیا جاتا ہے تو انہیں 25 سال تک قید کی سزا دی جا سکتی ہے۔

محکمہ خارجہ کے ترجمان مارک ٹونر نے کہا کہ "جب ایک سرکاری اہلکار پر ممکنہ طور پر فرائض سے غفلت یا وفاقی جرائم کا شبہ ہو جو عوام کے اعتماد کے خلاف ہوں، ہم ایسے دعوؤں کی سختی سے چھان بین کرتے ہیں۔ محکمہ خارجہ مجرمانہ سرگرمی کے تحقیقات کرنے اور ان کا ارتکاب کرنے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے دیگر اداروں کے ساتھ مل کر کام کرنے کے عزم پر سختی سے قائم ہے ۔"

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG