رسائی کے لنکس

'بے وطن بچے' امتیازی سلوک اور مایوسی کا شکار ہیں: اقوام متحدہ


فائل فوٹو

فائل فوٹو

اقوام متحدہ کے ادراہ برائے مہاجرین کا کہنا ہے کہ ہر دس منٹ کے بعد ایک بچہ بے وطن پیدا ہوتا ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین 'یواین ایچ سی آر' کا کہنا ہے کہ ایک سال قبل بے وطنی کو ختم کرنے کے لیے شروع کی گئی 10 سالہ مہم سے پیش رفت ہو رہی ہے تاہم یہ کافی نہیں ہے۔

ایک اندازے کے مطابق اب تک ایک کروڑ افراد بے وطنی کا شکار ہوئے ہیں اور انہیں کسی بھی ملک کا شہری تسلیم نہیں کیا جاتا ہے۔ وہ بے وطن ہیں اور اس تناظر میں وہ ان تمام حقوق سے محروم ہیں جو پیدائش کے سرٹیفیکیٹ اور کسی (ملک) کی شہریت کی بنا پر حاصل ہوتے ہیں۔

یو این ایچ سی آر کا کہنا ہے کہ ہر دس منٹ کے بعد ایک بچہ بے وطن پیدا ہوتا ہے۔

ادارے کے نائب ہائی کمشنر برائے تحفظ وولکر ٹرک نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ایک بے وطن بچہ بڑا ہوتے ہوئے ایک بامعنیٰ زندگی گزارنے کی خواہشات سے مایوس ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بے وطنی ایک شدید نفسیاتی الجھن کا باعث بنتی ہے اور یہ بچے کی خوداعتمادی کو کمزور کرتی ہے۔

یواین ایچ سی آر کی رپورٹ کے مطابق بے وطن نوجوانوں کو امتیازی سلوک، رسوائی اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور وہ استحصال کازیادہ شکار ہوتے ہیں۔

بے وطنی تمام براعظموں میں موجود ہے۔ لوگ اس وقت بے وطنی کا شکار ہو جاتے ہیں جب ملک ٹوٹ جاتے ہیں جیسا کہ سابق سویت یونین میں ہوا یا جب ایک نیا ملک وقوع پزیر ہوتا ہے جیسا کہ جنوبی سوڈان ہے۔ صنفی امیتاز کا بھی اس میں ایک اہم کردار ہے کئی ایک ملک ماں کو اجازت نہیں دیتے کہ وہ شہریت اپنے بچے کو منتقل کر سکے۔

تاہم ٹرک نے کہا کہ بے وطنی کے مسئلے سے نمٹا جاسکتا ہے۔ " مثال کے طور پر آئیوری کوسٹ کے علاقے کوٹ د آوائر میں ماضی میں بے وطنی کا مسئلہ درپیش تھا لیکن اس کو شہریت کا قانون بنا کر حل کر لیا گیا۔ اس سے یہ بھی واضح ہوتا ہے اگر آپ (یہ) کرنا چاہتے ہیں اور اس کے لیے سیاسی ارادہ بھی رکھتے ہیں تو آپ ان افراد کو جو ایک طویل عرصے سے ایک ملک میں مقیم ہیں ان کو شہریت دے کر حقیقت میں اسے حل کر سکتے ہیں"۔

یواین ایچ سی آر تمام ملکوں پر زور دیتا ہے کہ وہ ہمہ گیر سطح پر بچوں کی پیدائش کے اندارج کو یقینی بنائیں اور ماؤں کو اپنی شہریت اپنے بچوں کو منتقل کرنے کی اجازت دیں اور ان قوانین کو ختم کردیں جو بچوں کو ان کے رنگ، نسل اور مذہب کی بنا پر شہریت سے انکار کرتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG