رسائی کے لنکس

بھارت: غیر محفوظ طریقے نس بندی آپریشن کرنے والا ڈاکٹر گرفتار


(فائل فوٹو)

(فائل فوٹو)

آپریشن کرانے والی خواتین میں سے 13 ہلاک ہو گئیں۔ ڈاکٹر نے کہا کہ و ہ خواتین کی ہلاکت کا کسی طرح بھی ذمہ دارنہیں بلکہ خواتین بعد از آپریشن دی جانے والی ایک ’مضر‘ دوا سے بیمار ہوئیں۔

بھارتی پولیس نے ملک کی وسطی ریاست چھتیس گڑھ میں خواتین کی نس بندی کے آپرشین کرنے والے اُس ڈاکٹر کو گرفتار کر لیا ہے جس سے آپریشن کرانے والی خواتین میں سے 13 ہلاک ہو گئیں۔

عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر آر کے گپتا کو بدھ کو حراست میں لیاگیا ہے۔ ڈاکٹر نے کہا کہ و ہ خواتین کی ہلاکت کا کسی طرح بھی ذمہ دارنہیں بلکہ خواتین بعد از آپریشن دی جانے والی ایک ’مضر‘ دوا سے بیمار ہوئیں۔

اطلاعات کے مطابق ڈاکٹر نے ہفتہ کو چھ گھنٹوں میں 80 خواتین کے نس بندی کے آپریشن کیے تھے ۔

بھارت کے بلاسپور ضلع کے کمشنر سونمانی بورہا نے کہا کہ خواتین کا نس بندی آپریشن کرنے کے بعد انھیں گھروں کو بھیج دیا گیا تھا، تاہم بعدمیں طبعیت خراب ہونے کے باعث کئی کو اسپتال منتقل کیا گیا۔

ورہا نے کہا کہ ’’ پیر کو جن خواتین کے آپریشن کیے گئے ان کے بارے میں نبض ڈوبنے، قے اور دوسری تکالیف کی اطلاعات موصول ہونا شروع ہوئی تھیں‘‘۔

بھارت میں آبادی کو کنٹرول کرنے کے لیے نس بندی کو مقبول طریقہ خیال کیا جاتا ہے اور بعض ریاستی حکومتوں کی طرف سے شادی شدہ جوڑوں کو رضاکارانہ طور نس بندی پر تیار کرنے کے لیے اضافی مراعات کی پیشکش کی جاتی ہے۔

مشرقی بھارت میں حکام کو اس وقت سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا جب ایک نیوز چینل پر دکھائی گئی، ایک رپورٹ میں نس بندی کے بعد کئی خواتین کو ایک کھیت میں نیم بے ہوشی کی حالت میں چھوڑ دیا گیا تھا۔

XS
SM
MD
LG