رسائی کے لنکس

اسٹیو جابز کی یاد میں دنیا بھر میں سوگ


اسٹیو جابز کی یاد میں دنیا بھر میں سوگ

اسٹیو جابز کی یاد میں دنیا بھر میں سوگ

معروف ٹیکنالوجی کمپنی 'ایپل' کے دنیا بھر میں موجود اسٹورز جمعرات کو کمپنی کے شریک بانی اسٹیو جابز کو خراجِ تحسین پیش کرنے والوں کی توجہ کا مرکز بنے رہے۔

الیکٹرونک کی عالمی صنعت کی جدید تشکیل کے ایک اہم ترین کردار اسٹیو کی اچانک موت کے صدمے سے دوچار ان کے لاکھوں چاہنے والوں نے دنیا بھر میں موجود 'ایپل' کے اسٹورز پر کمپنی کے بانی کی یاد میں پھول رکھے اور چراغ روشن کیے۔

1976ء میں اپنے ایک دوست اسٹیو وازنائک کے ہمراہ 'ایپل' کمپنی کی بنیاد رکھنے والے جابز نے میکنٹوش کمپیوٹر، آئی پوڈ اور آئی پیڈ سمیت کئی کامیاب مصنوعات متعارف کرائی تھیں۔

ان کے اچانک انتقال پر دنیا بھر سے ان کے کاروباری حریفوں، ساتھیوں، سیاسی رہنمائوں اور چاہنے والوں کی جانب سے خراجِ تحسین پر مبنی پیغامات بھیجنے کا سلسلہ جاری ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے 'سی این این' سے گفتگو کرتے ہوئے 'ایپل' کے شریک بانی وازنائک نے اپنے آنجہانی ساتھی کو "دور رس نگاہ کا حامل قائد" اور 'تشہیر کے شعبہ کا ذہین ترین فرد" قرار دیا۔ وازنائک کا کہنا تھا کہ جابز ٹیکنالوجی کو مستقبل قرار دیتے تھے۔

اپنے تعزیتی پیغام میں امریکی صدر براک اوباما نے اسٹیو جابز کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے انہیں امریکہ کی تاریخ کے "عظیم ترین موجدوں" میں سے ایک گردانا۔

اُنھوں نے کہا کہ سٹیو جابز نے ’’صنعتوں کا نقشہ بدل دیا‘‘ اور انٹر نیٹ کو نہ صرف عام لوگوں کی پہنچ میں لائے بلکہ اس کو تفریح کا ذریعہ بھی بنایا۔

سوشل نیٹ ورکنگ سائیٹ 'فیس بک' کے بانی مارک زوکربرگ نے اپنے پیغام میں "دنیا تبدیل کردینے والی" مصنوعات دینے پر جابز کا شکریہ ادا کیا۔

لبلبے کے سرطان کا شکار اسٹیو جابز بدھ کو 56 برس کی عمر میں انتقال کرگئے تھے۔ ان کے انتقال کی خبر نشر ہونے کے فوراً بعد ہی ان کے چاہنے والوں کی جانب سے دنیا بھر میں پھیلے ہوئے 'ایپل' کے اسٹورز کے باہر جمع ہوکر وہاں ان کی تصویریں اور پھول رکھنے اور موم بیتاں روشن کرنے کے علاوہ اپنے پیغامات درج کرانے کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا جو تاحال جاری ہے۔

جابز کو انٹرنیٹ بلاگز اور دیگر ویب سائٹس پر بھی زبردست اور جذباتی خراجِ تحسین پیش کیا جارہا ہےاور معروف سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائیٹ 'ٹوئٹر' کا کہنا ہے کہ سائیٹ پر جابز کے حوالے بھیجے جانے والے پیغامات کی شرح 10 ہزار فی سیکنڈ سے تجاوز کر گئی ہے جو ایک ریکارڈ ہے۔

جابز کی موت پر برِ اعظم ایشیا کے کئی ممالک میں بھی سوگ کی کیفیت ہے جہاں ان کی ایجاد کردہ بیشتر مصنوعات تیار کی جاتی ہیں اور مقامی آبادی میں بے انتہا مقبول ہیں۔

چین کی کئی ویب سائٹ پر بھی اسٹیو جابز کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا سلسلہ جاری ہے اور اس حوالے سے اب تک کئی لاکھ پیغامات بھیجے جاچکے ہیں۔ چین میں 'ایپل' کی مصنوعات انتہائی مقبول ہیں جہاں کمپنی کی نئی پراڈکٹ کو خریدنے کے لیے شائقین بعض اوقات کئی کئی دن تک قطار لگائے رکھتے ہیں۔

مائیکرو سوفٹ، گوگل، سونی اور سام سنگ سمیت ٹیکنالوجی کے عالمی میدان میں 'ایپل' کے کئی اہم حریفوں کی جانب سے بھی جابز کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا گیا ہے۔

اسٹیو جابز کے ماضی کے کاروباری شریک اور بعد میں حریف بن جانے والے مائیکروسوفٹ کے چیئرمین بل گیٹس نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا ہے کہ اسٹیو جابز کے دنیائے ٹیکنالوجی پر اثرات کو "آئندہ کئی نسلوں تک محسوس" کیا جاتا رہے گا۔

ماضی میں میکنٹوش کمپیوٹرز کے زبردست حامی رہنے والے گیٹس کا کہنا تھا کہ جابز کے ساتھ کام کرنے کا تجربہ ان کے لیے "ایک بہت ہی عظیم اعزاز" تھا۔

سام سنگ نے جابز کی "جدت پسند طبیعیت" کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے انہیں "عظیم ترین کاروباری شخصیت" قرار دیا ہے۔ واضح رہے کہ ا'یپل' اور 'سام سنگ' رواں برس اپریل سے ایک دوسرے کے خلاف قانونی جنگ میں مصروف ہیں۔

مقدمہ بازی کا آغاز 'ایپل' کی جانب سے کیا گیا تھا جس نے سام سنگ کے خلاف قانونی کاروائی کرتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ اس نے اپنے 'اسمارٹ فونز' اور 'ٹیبلٹ کمپیوٹرز' کی تیاری کے لیے مبینہ طور پر 'آئی فون' میں استعمال کی گئی ٹیکنالوجی کو نقل کیا ہے۔

اسٹیو جابز نے اگست میں 'ایپل' کے چیف ایگزیکٹِو کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ ان کے بعد یہ عہدہ سنبھالنے والے ٹم کک نے کہا ہے کہ اسٹیو جابز کا جذبہ "ہمیشہ 'ایپل' کی بنیاد" رہے گا۔

چوبیس فروری 1955ء کو پیدا ہونے والے اسٹیو جابز نے کالج میں پہنچ کر پڑھائی چھوڑ دی تھی۔ اُن کی پرورش کیلی فورنیا کے اُس علاقے میں ہوئی جسے بعد میں سلیکون ویلی کا نام دیا گیا اور جو اب امریکہ میں ٹیکنالوجی کی صنعت کا ایک مرکز ہے۔

سٹیو جابز 1974ء میں ویڈیو گیمز بنانے والی ایک کمپنی میں ٹیکنیشن کی ملازمت ترک کرکے روحانی روشن خیالی کی تلاش میں بھارت چلے گئے تھے۔

امریکہ واپسی پر اُنھوں نے اپنے ایک دوست سٹیو وازنائک کے ساتھ مل کر اپنے گیراج میں کام کا آغاز کر کے پہلا 'ایپل' کمپیوٹر بنایا۔ وہ 2003ء سے لبلبے کے سرطان میں مبتلا تھے اور 2009ء میں اُن کے جگر کی پیوند کاری بھی ہوئی تھی۔

XS
SM
MD
LG