رسائی کے لنکس

خواتین کے بارے میں چند دلچسپ قدیم امریکی قوانین

  • جمیل اختر

امریکی خواتین دیگر مظاہرین کے ساتھ نسل پرستی کے خلاف احتجاج کررہی ہیں۔

امریکی خواتین دیگر مظاہرین کے ساتھ نسل پرستی کے خلاف احتجاج کررہی ہیں۔

امریکہ کو دنیا بھر میں انسانی حقوق کا علمبردار سمجھا جاتا ہے ۔ امریکی حکومت ہر سال دنیا بھر میں انسانی حقوق کی صورت حال پر ایک رپورٹ شائع کرتی ہے ، اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے آواز اٹھانے والی بہت سی بین الاقوامی تنظیموں کے صدر دفاتر یہاں قائم ہیں۔ اس حوالے سے بہتر صورتحال کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ انسانی حقوق کے لیے اہم ترین تحریکیں بھی امریکہ کے اندر ہی چلیں، جن میں برابری کے حقوق کے لیے افریقی امریکی رہنمامارٹن لوتھر کنگ جونیئر کی تحریک بطور خاص قابل ذکر ہے۔

ہالی وڈ کی فلموں اور میڈیا کے ذریعے دنیا بھر میں امریکی خواتین کی آزادیوں اور انہیں حاصل حقوق کی ایک پرکشش تصویر پیش کی جاتی ہے ، لیکن مبصرین کے مطابق اب بھی اس ملک میں ایسی تنظیمیں موجود ہیں جو خواتین کے حقوق کے لیے آواز بلند کرتی رہتی ہیں۔ جن کا کہنا ہے کہ کئی شعبوں اور علاقوں میں خواتین کو مردوں کے مساوی حقوق حاصل نہیں ہیں اور انہیں مردوں سے کم اجرت دی جاتی ہے۔

خواتین کے بارے میں چند دلچسپ قدیم امریکی قوانین

خواتین کے بارے میں چند دلچسپ قدیم امریکی قوانین

قدیم امریکی معاشرے میں خواتین کا کیا مقام تھا اور اسے کتنے حقوق اور آزادیاں حاصل تھیں، ان کا اندازہ ان قوانین سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے جن میں سے زیادہ تر متروک ہوچکے ہیں ، تاہم وہ کتابوں میں اب بھی موجود ہیں۔ چند قوانین ذیل میں درج ہیں۔

آج دنیا کے ہر معاشرے میں خواتین پر ہاتھ اٹھانے کو معیوب سمجھا جاتا ہے مگرہماری تحقیق کے مطابق کئی امریکی ریاستوں اور شہروں کے مقامی قوانین اس کی اجازت دیتے ہیں۔ مثال کے طورپر ریاست الباما کے شہر جیسپرکے ایک قانون کے تحت شوہر کو چھڑی سے اپنی بیوی کی پٹائی کی اجازت دی گئی تھی مگر اس شرط کے ساتھ چھڑی کی موٹائی انگوٹھے سے زیادہ نہ ہو۔ اسی طرح ارکنساس کا ایک قانون مہینے میں ایک بار بیوی کی پٹائی کی اجازت دیتاہے۔ جب کہ ریاست کیلی فورنیا کے شہر لاس اینجس کے ایک قانون میں کہا گیا ہے کہ ضرورت پڑنے پر خاوند پتلون کی بیلٹ سے اپنی بیوی کی پٹائی کرسکتا ہے، تاہم بیلٹ کی چوڑائی دو انچ سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔ اس قانونی دفعہ میں صرف اسی پر اکتفانہیں کیا گیا بلکہ آگے چل کر یہ بھی کہاگیا ہے کہ اگر بیوی کو اعتراض نہ ہو تو وہ اس کی پٹائی کے لیے دو انچ سے چوڑی بیلٹ بھی استعمال کرسکتا ہے۔

آج کل لباس کو افراد کا ذاتی معاملہ سمجھا جاتا ہے ، لیکن ماضی میں کئی امریکی ریاستوں میں خواتین کے لباس پر بھی قانون سازی کی گئی تھی۔ مثلاً ریاست کی قانونی کتابوں کے مطابق نارتھ کیر ولائنا کے شہر شارلٹ کے ایک قانون میں کہا ہے کہ خواتین کو اپنا جسم ڈھاپنے کے لیے لازمی طورپر ہروقت ایسا لباس استعمال کرنا چاہیے جسے بنانے پر کم ازکم 16 گز کپڑا استعمال ہوا ہو۔ ریاست ایری زونا کے شہر ٹوسان میں خواتین کا پتلون پہننا خلاف قانون قرار دیا گیاتھا۔ جب کہ ریاست وسکانسن کے شہر سینٹ کورکس کے ایک قانون میں کہا گیا ہے کہ خواتین عوامی جگہوں پرسرخ رنگ کا لباس ، ہیٹ یا جوتے استعمال نہیں کرسکتیں۔ اسی طرح ریاست میزوری کے شہر ساکو میں کسی خاتون کا ایسا ہیٹ یا ٹوپی پہننا خلاف قانون تھا جس سے دوسروں کی توجہ منشتر ہو۔ نیویارک کی ایک قانون دفعہ عورت کا چست لباس میں ملبوس ہوکر باہر نکلنا جرم قراردیتی ہے۔ ریاست اوہائیو کے شہر کلیولینڈ کے ایک قانون کے تحت خواتین کو چمک دار جوتے پہننے کی ممانعت کی گئی ہے۔اس پابندی کی وضاحت کرتے ہوئے قانون میں کہا گیا ہے کہ چمک دار جوتے میں جسم کا عکس دکھائی دے سکتا ہے۔

اب ذکر خواتین کے حوالے سے کچھ ایسے قوانین کا جن پر اس دور کی معاشرتی اقدار اور بندشوں کی جھلک نمایاں طورپر دکھائی دیتی ہے۔ ریاست ارکنسا کے شہر لٹل راک کے ایک قانون میں کہا گیاہے کہ سرعام اظہار محبت پر عورت اور مرد دونوں کو 30 دن کے لیے جیل بھیجا سکتا ہے۔ ریاست ٹینی سی کے شہر ڈائرزبرگ میں کسی خاتون کا کسی مرد کے ساتھ ڈیٹ پر جانا جرم تھا۔

ذرا دیکھیئے کہ ان قوانین سے قدیم امریکی معاشرے کا کونسا پہلو سامنے آتا ہے۔ ریاست کیلی فورنیا کے شہر پاسنڈرا میں ایک قانون سازی کے ذریعے کسی خاتون سیکرٹری کی تنہائی میں اپنے باس کے کمرے میں موجودگی پر پابندی لگادی گئی تھی۔ ریاست ویسٹ ورجینیا میں منظور کیے جانے والے ایک ریاستی قانون میں کہا گیا ہے کہ کوئی ڈاکٹر یا دندان ساز سرجری کے لیے کسی عورت کو اس وقت تک بے ہوشی کی دوا نہیں دے سکتا جب تک کوئی تیسرا شخص وہاں موجود نہ ہو۔ ریاست میزوری کے شہر سینٹ لوئیس کے ایک قانون کے تحت آگ بجھانے والے عملے کے لیے کسی ایسی عورت کوجلتی ہوئی عمارت سے باہرنکالنا جرم قرار دیا گیا جس نے سونے کا لباس پہن رکھا ہو۔ قانون میں کہا گیا ہے کہ وہ صرف ایسی خاتون کی جان بچاسکتے ہیں جس نے پورا لباس پہن رکھا ہو۔

اسی طرح ریاست کنٹکی کا ایک قانون معاشرے کا ایک اور پہلو ہمارے سامنے لاتا ہے ۔ جس میں کہا گیا ہے کہ کوئی عورت ایک ہی مرد سے چوتھی بار شادی نہیں کرسکتی۔مرتکب خاتون کو جیل ہوسکتی ہے۔

کئی امریکی ریاستوں میں خواتین کے حقوق پر بھی قانون سازی کی گئی تھی۔ نمونے کے طور پر چند قوانین ملاحظہ ہوں۔ ریاست مشی گن کے ایک قانون میں کہا گیا ہے کہ عورت کے بال خاوند کی ملکیت ہیں اور وہی ان کے بارے میں فیصلہ کرنے کا مجاز ہے۔ ریاست منی سوٹا کا ایک قانون کسی بیوی کا اپنے خاوند کی ڈاک اس کی اجازت کے بغیر کھولنا جرم قرا ر دیتا ہے۔ ریاست ورماؤنٹ کے ایک قانون میں داندان سازوں سے کہا گیاہے کہ وہ کسی عورت کے منہ میں اس وقت تک مصنوعی دانت نہ لگائیں جب تک اس کے پاس اپنے خاوند کا تحریری اجازت نامہ موجود نہ ہو۔ یوٹاہ کے ایک قانون کے مطابق شوہر اپنی بیوی کے ہر جرم کا ذمہ دارہے اور اس پر لازم ہے کہ وہ بیوی کے ہر عمل پر نظر رکھے۔ ریاست منی سوٹا میں نافذ کیے جانے والے ایک قانون میں کہا گیا ہے سیٹاکلاز کا کاسٹیوم صرف مرد پہن سکتے ہیں۔ اگرکوئی خاتون ایسا کرے گی تواسے 30 دن تک جیل کی سزا ہوسکتی ہے۔ پنسلوانیا کے شہر موری ول کا ایک قانون لائسنس حاصل کیے بغیر خواتین کے میک اپ کرنے پر پابندی لگاتا ہے۔

ذیل میں دیے گئے قوانین معاشرے کا ایک اور پہلو ہمارے سامنے لاتے ہیں۔ ریاست نارتھ کیرولائنا کے ایک اور قانون میں ہوٹلوں سے کہا گیا ہے کہ وہ جوڑے کو صرف ایسا کمرہ کرائے پر دے سکتے ہیں جس میں کم ازکم دو بیڈ ہوں اور ان کے درمیان کم ازکم دوفٹ کا فاصلہ ہو اور یہ کہ جوڑے پر یہ واضح کردیا جائے کہ ان کے ایک دوسرے کے قریب آنے کی قانونی طور پر ممانعت ہے چاہے وہ کمرے کا فرش پر ہی کیوں نہ ہوں۔ ریاست میساچوسٹس کے شہر سالم میں منظور کیا جانے والا ایک قانون اس سے بھی زیادہ سخت تھا جس میں کرائے کے کمرے میں میاں بیوی کا بھی ایک ساتھ رات گذارنا جرم قراردیا گیاہے۔ ڈیٹرائٹ کے ایک قانون کے مطابق چلتی کار سے کسی خاتون کو بری نیت سے گھورنا جرم ہے۔ جب کہ ریاست ٹیکساس کے شہر سان ایٹونیو کا ایک قانون نظروں کے ذریعے کسی عورت کا مرد کو چاہت کا پیغام دینا جرم قراردیتاہے۔

نارتھ کیرولائنا میں گرجا گھر کی حدود میں عورت اور مرد کا ایک دوسرےسے محبت کا اظہار جرم اور قابل دست اندازی پولیس ہے۔ مشی گن کے شہر ڈیٹرائٹ میں کار میں بیٹھ کر اظہار محبت کرنا خلاف قانون ہے ، تاہم اگر کار اپنے گھر کی پارکنگ میں کھڑی ہوتوقانون اس کی اجازت دیتا ہے۔ ریاست کنیٹی کٹ کے شہر ہیرٹ فورڈ میں اتوار کے روز اپنی بیوی کو چومنا خلاف قانون ہے۔

اور اب چند ایسے قوانین جن کی ماضی میں یقیناً کوئی ضرورت ہوگی مگر آج انہیں پڑھنے سے لبوں پر مسکراہٹ آجاتی ہے۔ مثلاً ریاست آئی وا کے ایک قانون میں کہا گیا ہے کہ خاتون کو اظہار محبت کے لیے دی جانے والی چاکلیٹوں کا وزن 50 پونڈ سے کم نہیں ہونا چاہیے۔کنٹکی کٹ کا ایک قانون کسی خاتون کا نہانے کے لباس میں ہائی وے پر جانا جرم قراردیتے ہوئے کہتا ہے کہ اگر اس کی حفاظت پر دو مسلح پولیس اہل کار موجود ہوں یا اگر خاتون کا وزن 90 پونڈ سے کم یا 200 پونڈ سے زیادہ ہوتو وہ ایسا کرسکتی ہے۔ ریاست الی نوائے کے شہر گورنی میں 200 پونڈ سے زیادہ وزنی عورت کا نیکر پہن کر گھوڑے پر سوار ہونا خلاف قانون ہے۔ ریاست نیوڈا کے شہر ایورکا کی ایک قانونی دفعہ مونچھوں والے مرد کو عورت کو چومنے سے روکتی ہے۔ ریاست ٹینی سی کے شہر میمفس کے ایک قانون کے مطابق کوئی عورت صرف اس صورت میں کار چلاسکتی ہے اگر ایک مرد لوگوں کو خبردار کرتےہوئے گاڑی کے آگے سرخ جھنڈی لے کرچل رہاہو۔

XS
SM
MD
LG