رسائی کے لنکس

ماضی میں بھی کئی تحقیقوں میں جاب یا نوکری پر ہونے والے ذہنی دباؤ کا براہ ِراست تعلق دل کے عوارض اور فالج کے ساتھ جوڑا گیا تھا

ایک حالیہ تحقیق بتاتی ہے کہ ایسے ملازمت پیشہ افراد جنہیں اپنی نوکریوں میں ذہنی دباؤ یا stress کا سامنا رہتا ہے یا جن کی ملازمت بہت چیلنجنگ ہوتی ہے اور بہت کام کرنا پڑتا ہے، ان میں فالج کا حملہ ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔

ماضی میں بھی کئی تحقیقوں میں جاب یا نوکری پر ہونے والے ذہنی دباؤ کا براہ ِراست تعلق دل کے عوارض اور فالج کے ساتھ جوڑا گیا تھا۔

سوئیڈن میں سکول آف ہیلتھ سائنسز کے تحت ہونے والی اس تحقیق کی سربراہی الینور آئی فرانسن کر رہے تھے، جن کا کہنا ہے کہ، ’ماضی میں بھی ملازمت پر ذہنی دباؤ اور فالج کے حوالے سے جو تحقیق کی گئیں اس میں فالج اور ملازمت پر ذہنی دباؤ کے بارے میں مختلف نتائج سامنے آئے تھے‘۔

اس تحقیق میں یورپ میں نوکری اور فالج کے درمیان تعلق کے حوالے سے ماضی میں کی جانے والی 14 تحقیقوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ ایسے افراد جنہیں نوکری میں مشکلات یا ذہنی دباؤ کا سامنا ہے، ان میں فالج ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ایسے افراد زیادہ تر ischemic stroke میں مبتلا ہو سکتے ہیں، جس میں دماغ کو آکسیجن کی سپلائی مکمل طور پر نہیں مل پاتی اور شریانوں میں خون جم جاتا ہے۔

اس تحقیق کے لیے 1985ء سے لے کر 2008ء تک یورپ میں ملازمت پر دباؤ اور فالج کے درمیان ربط کے حوالے سے کی جانے والی تحقیقوں کا جائزہ لیا گیا، جن میں تقریباً دو لاکھ افراد نے سوالنامے بھرے تھے۔

ایسے افراد جن کی نوکریوں پر کام کا دباؤ بہت زیادہ تھا انہیں job strain کے درجے میں رکھا گیا اور ایسے افراد کی تعداد 13 سے 22 فیصد تھی۔

یورپ کے اعداد و شمار کے مطابق، تقریباً ایک لاکھ افراد میں سے ہر سال 115 مرد حضرات اور 75 خواتین کو ischemic stroke ہوتا ہے۔

اس نئی تحقیق کے مطابق ملازمت پر ذہنی دباؤ کا شکار رہنے والوں میں فالج ہونے کی شرح 24 فی صد بڑھ جاتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس، کولیسٹرول کی بڑھتی شرح اور خاندان میں فالج کی ہسٹری کی وجہ سے بھی انسان میں فالج میں مبتلا ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔

XS
SM
MD
LG