رسائی کے لنکس

رواں ہفتے 17 فروری کو کراچی میں واقع نجی ٹی وی چینلز ’آج‘، ’وقت‘ اور اس سے اگلے دن ’اے آر وائی نیوز‘ پر دستی بم حملے ہوئے، جبکہ 16 اگست اور 2 دسمبر 2013ء کو ’ایکسپریس نیوز‘ پر بم حملے اور فائرنگ کے واقعات پیش آئے

کراچی میں نجی ٹی چینلز پر دستی بم حملوں کے بعد، ان کے دفاتر اور میڈیا ہاوٴسز سخت سیکورٹی کے گھیرے میں’ قید‘ ہوگئے ہیں۔ یہاں تک کہ اسٹاف کو بھی مکمل چیکنگ کے بعد ہی اندر جانے کی اجازت دی جا رہی ہے، جس سے کچھ دفاتر کے داخلی دروازوں پر سیکورٹی اہلکاروں اور عملے کے درمیان تلخ کلامی کے واقعات بھی دیکھنے میں آئے۔

رواں ہفتے 17 فروری کو کراچی میں واقع نجی ٹی وی چینلز ’آج‘ ، ’وقت‘ اور اس سے اگلے دن ’اے آر وائی نیوز‘ پر دستی بم حملے ہوئے، جبکہ 16 اگست اور 2 دسمبر 2013ء کو ’ایکسپریس نیوز‘ پر بم حملے اور فائرنگ کے واقعات پیش آئے۔17جنوری کو ہی اسی ادارے کی وین (ڈی ایس این جی) پر فائرنگ کے نتیجے میں، ایک رپورٹر سمیت تین افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

اِن حملوں کے بعد، شہر کے تمام ٹی وی چینلز پر غیرمعمولی حفاظتی انتظامات دیکھنے میں آرہے ہیں۔ ملک کے سب سے بڑے ٹی وی نیٹ ورک ’جیو‘ نے اپنے دفاتر کے گرد حفاظتی انتظامات بھی سب سے زیادہ کئے ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی بتائی جارہی ہے کہ اس ادارے کے پانچ چینلز ہیں جن میں ’جیو نیوز‘، ’جیو ٹی وی‘ ، ’جیو سوپر‘، ’جیو تیز‘ اور ’جیو کہانی‘ شامل ہیں۔ اور یہ تمام چینلز ایک ہی سڑک ’آئی آئی چندریگر روڈ‘ پر واقع ہیں۔

چینلز کے علاوہ، پاکستان کے سب سے ممتاز اخبار ’جنگ‘ ، ’دی نیوز‘، ’ڈیلی نیوز‘ ،’میگ‘ اور ’اخبار جہاں‘ کے دفاتر بھی یہیں موجود ہیں۔ چنانچہ، عمارت کے داخلی دروازے پر غیر معمولی لمبا، چوڑا اور اونچا آہنی دروازہ نصب ہے جو دستی بم حملوں کے واقعات سے پہلے اکثر کھلارہتا تھا۔ لیکن، اب یہ مکمل طور پر بند رہتا ہے اور اندر جانے والی گاڑیوں کو داخلے سے پہلے ہی ہر طریقے سے چیک کیا جاتا ہے۔ چیکنگ میں جدید آلات سے مدد لی جارہی ہے۔

دروازے کے باہر اور اندر کنکریٹ کی انتہائی دبیز اور مضبوط رکاوٹیں کھڑی کردی گئی ہیں۔ ہر شخص کو عمارت میں داخلے سے پہلے میں گیٹ پر جامہ تلاشی دینا پڑتی ہے۔ اسے میٹل ڈی ٹیکٹر والے دروازے سے جانا ہوتا پڑتا ہے۔ آہنی دروازے سے اندر داخل ہوتے ہی بیگ اور دیگر سامان کی چیکنگ کے لئے ایک مرتبہ پھر اسے باوردی مسلح سیکورٹی گارڈ اور دستی میٹل ڈی ٹیکٹر سے تلاشی دینا ہوتی ہے۔

علاوہ ازیں، عمارت کے گرد ریت کے ڈرمز کھڑے کر دیئے گئے ہیں۔ ریت کی بوریوں کی مدد سے چیک پوسٹ بھی تعمیر کی جارہی ہے۔ سیکورٹی انتہائی ہائی الرٹ کی سطح پر ہے۔ وہ مستعدی سے عمارت میں جانے والے عملے کی بھی ہر طرح سے چیکنگ کرتے ہیں جس سے عملے نے سخت ناراضگی کا بھی اظہار کیا، جبکہ کچھ تلخ کلامی کے بھی واقعات دیکھنے میں آئے۔

سیکورٹی سے ناراض ایک شخص نے اپنے سامان اور جامعہ تلاشی پر سیکورٹی سپروائزر سے تلخ کلامی کے بعد، وی او اے سے کہا ’عجیب لوگ ہیں۔ میری تو ساری ساکھ ہی تحس نحس ہوگئی۔ بتایئے 19سال سے جاب کر رہا ہوں ۔۔۔کیا میں بیگ میں بم رکھ کر اندر جاوٴں گا۔۔۔کیا میں اتنا ہی بے وقوف ہوں۔ تلاشی دینا مسئلہ نہیں۔ اصل مسئلہ طریقہ کار کا ہے۔ میرے نزدیک عملے کو میٹل ڈی ٹیکٹر سے گزارنا کافی ہے۔ اگر ہر کسی کا بیگ اور سامان بھی روزانہ اسی طرح چیک ہوتا رہا تو یہ منفی تاثر ابھرے گا کہ انتظامیہ برسوں کی مخلصی کے بعد بھی اس پر شاکی ہے۔‘

گرومندر پر واقع ’آج‘ ٹی وی کی عمارت کے گرد بھی کنکریٹ کی دیواریں کھڑی کردی گئی ہیں۔ وہاں بھی آہنی دروازے نصب ہیں۔ عمارت کے بیرونی حصوں میں نئے سی سی ٹی وی کیمرے لگ گئے۔ جہاں پہلے سے یہ کیمرے نصب تھے وہاں مانیٹرنگ بڑھا دی گئی۔ عمارت کے آس پاس پارک ہونے والی ہر گاڑی پر گہری نظر رکھی جارہی ہے۔

’وقت‘ ٹی وی کے گرد بھی سیکورٹی حصار ’تنگ‘ ہوگیا ہے اور ہر ممکن کوشش ہے کہ سیکورٹی ایک لمحے کے لئے بھی نظرانداز نہ ہو۔ ’ایکسپریس نیوز‘ اور روزنامہ ’ایکسپریس‘ کے دفاتر پر بھی کم و بیش اسی طرح کے انتظامات کئے گئے ہیں جن کا ذکر اوپر کیا گیا ہے۔

’اے آو وائی نیوز‘ نے صدر اور سائٹ ایریا میں واقع دونوں دفاتر کی سیکورٹی کے حوالے سے پولیس سے مدد لی ہے۔ صدر آفس کے داخلی دروازوں پر پولیس موبائلز کھڑی رہنے لگی ہیں۔ یہاں پارک ہونے والی گاڑیوں کی تعداد بھی انتہائی کم ہوگئی ہے جبکہ سائٹ آفس کی مرکزی عمارت سے کئی گز دور پہلے سے ہی سیکورٹی کے سخت انتظامات دیکھنے میں آ رہے ہیں۔ یہاں بیرئیرز نصب ہیں اور ان پر ہمہ وقت مسلح سیکورٹی گارڈز مامور رہنے لگے ہیں۔ پارکنگ ایریا جو پہلے ’شاہراہ عام‘ بنا ہوا تھا، وہاں بھی چیکنگ کے بعد ہی گاڑیاں کھڑی کی جارہی ہیں اور وہ بھی پوری طرح چونکا رہ کر۔

متذکرہ نیوز چینلز کے علاوہ انٹرٹینمنٹ ٹی وی چینلز پر بھی سیکورٹی اقدامات کئے گئے ہیں۔ لیکن، یہاں نیوز چینلز والی سخت سیکورٹی نہیں۔ کچھ ایسے چینلز جو دوسروں کے مقابلے میں کم دیکھے جاتے ہیں، انہیں بھی سیکورٹی خدشات ہیں اور انہوں نے بھی اپنے اپنے وسائل کے مطابق سیکورٹی انتظامات بڑھا دیئے ہیں۔
XS
SM
MD
LG