رسائی کے لنکس

یمن: امریکی فوج کی کارروائی , القاعدہ کے تین جنگجو ہلاک


فائل فوٹو

فائل فوٹو

تاہم امریکہ کی سینٹرل کمانڈ نے  یہ نہیں بتایا ہے کہ کارروائی کس طرح کی گئی اور نا ہی اس حملے میں مارے جانے والوں کی شناخت کے بارے میں کچھ بتایا گیا ہے۔

امریکی فوج نے انسداد دہشت گردی کی ایک کارروائی میں شدت پسند تنظیم القاعدہ کے تین کارکنوں کو ہلاک کر نے کا بتایا ہے۔

تاہم امریکہ کی سینٹرل کمانڈ نے یہ نہیں بتایا ہے کہ کارروائی کس طرح کی گئی اور نا ہی اس حملے میں مارے جانے والوں کی شناخت کے بارے میں کچھ بتایا گیا ہے۔

جمعہ کو جاری ہونے والے ایک بیان میں سینٹرل کمانڈ نے کہا کہ یہ کارروائی وسطی یمن کے شبوا صوبے میں القاعدہ جزیر نما عرب (اے کیو اے پی) کے شدت پسندوں کے خلاف کی گئی۔

امریکی فوج قبل ازیں یمن میں عسکریت پسندوں کے خلاف کئی ڈرون حملے کر چکی ہے۔

سینٹرل کمانڈ کے بیان میں بتایا گیا کہ "اے کیو اے پی اس خطے، امریکہ اور دیگر (علاقوں ) کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ القاعدہ کی یہاں موجودگی یمن کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی ایک وجہ ہے اور اس نے یمن کی بد امنی کا فائدہ اٹھا کر یہاں محفوظ ٹھکانے بنا لیے ہیں تاکہ ہمارے اتحادیوں اور اس کے ساتھ ساتھ امریکہ اور اسکے مفادات کے خلاف مستقبل کے حملوں کی منصوبہ بندی کی جاسکے"۔

ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں نے 2014 میں یمن کے دارالحکومت صنعا پر قبضہ کر لیا تھا جس کے بعد بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کو سعودی عرب منتقل ہو نا پڑا۔ تاہم اب یہ یمن کے ساحلی شہر عدن میں واپس منتقل ہو چکی ہے۔

سعودی عرب نے حوثی باغیوں کے خلاف مارچ 2015 میں فضائی کارروائیاں شروع کیں اور یمن پر فضائی اور بحری ناکہ بندی بھی عائد کر دی جس کی وجہ سے یہاں خوراک کی شدید قلت پیدا ہو گئی۔

اس صورت حال کی وجہ سے یمن عدم استحکام کا شکار ہو گیا ہے اور اس کے نتیجے میں یہاں عسکریت پسند سرگرم ہو گئے۔

اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق کی طرف سے حال ہی میں جاری ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق مارچ 2015 سے حوثی باغیوں کے خلاف شروع ہونے والی سعودی عرب کی کارروائیوں کے دوران 3500 سے زائد افراد ہلاک جب کہ 6300 زخمی ہو چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ یمن کے عام شہریوں کی 80 فیصد آبادی کو خوراک اور طبی امداد کی اشد ضرورت ہے۔

XS
SM
MD
LG