رسائی کے لنکس

دل کے امراض اور اسٹروک کا تعلق نسلی گروپ، ماحول اور موروثیت سے ہے: نئی تحقیق

  • نومی سیک

دل کے امراض اور اسٹروک کا تعلق نسلی گروپ، ماحول اور موروثیت سے ہے: نئی تحقیق

دل کے امراض اور اسٹروک کا تعلق نسلی گروپ، ماحول اور موروثیت سے ہے: نئی تحقیق

عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ دنیا میں ہر سال ہونے والی اموات میں سے ایک تہائی کا سبب دل کی بیماری اور اسٹروک

ہوتاہے۔تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کے تمام ممالک اور آبادیوں کو ان دو نوں امراض کے ایک جیسے خطرے کا سامنا نہیں ہے۔

حال ہی میں کینڈا میں یہ جاننے کے لیے چار مختلف نسلی گروپوں پر تحقیق کی گئی کہ ان میں دل کی بیماری اور اسٹروک کے خطرے کا امکان ایک دوسرے سے کیوں مختلف ہے۔

دل کی شریانوں کی بیماری سے ہر سال تقریباً ایک کروڑ 70 لاکھ افراد موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں اوران میں سے 80 فی صد اموات ترقی یافتہ ممالک میں ہوتی ہیں۔

اس مرض کے اثرات ہر ملک میں ایک جیسے نہیں ہیں۔ جب سائنس دانوں نے مختلف ممالک میں رہنے والوں پر تحقیق کی تو انہیں معلوم ہوا کہ معاشرت، ماحول اور موروثیت اس مرض کے امکان کا متاثر کرتی ہے۔

ایک حالیہ تحقیق میں ان میں سے کچھ پہلوؤں کو موضوع بنایا گیا تھا۔

ماریا چو اور ان کی ٹیم کے ارکان نے کینیڈا کے صوبے اونٹیریو سے تعلق رکھنے والے مختلف نسلی گروپوں پر، جن میں سفید فام، چینی ، جنوبی ایشیا اور سیاہ فام شامل تھے،دل کی بیماری میں مبتلا ہونے کے امکان پر تحقیق کی ۔اپنی اس تحقیق میں انہوں نے 1996ء سے2007ء کے دوران، قومی اور کمیونٹی کی سطح پر جائزوں کے ذریعے،صحت کے حوالے سے اکٹھے کیے جانے والے اعدادوشمار استعمال کیے۔

اگرچہ جائزے میں شامل تمام افراد ایک ہی علاقے میں رہ رہے تھے اور انہیں صحت کی دیکھ بھال کی ایک جیسی سہولیات حاصل تھیں ، مگر ماہرین کو معلوم ہوا کہ ان میں دل کی بیماری اور اسٹروک میں مبتلا ہونے کے امکانات مختلف تھے۔ ان کے جائزے سے ظاہر ہوا کہ جنوب ایشیا کے ہر 20 میں سے ایک سے زیادہ شخص دل کی بیماریوں میں مبتلا تھا۔ جب کہ چینیوں اور سیاہ فام آبادیوں میں سے ہر 30 میں سے تقریباً ایک شخص ان امراض کاشکار تھا۔

چیو کہتی ہیں کہ چینی، جنوبی ایشیائی اور سیاہ فام باشندےدنیا بھر کی آبادی کا 60 فی صد حصہ ہیں۔ اس لیے دل کی صحت کے حوالے سے ان گروپوں کی صورت حال کا جاننا بہت اہم ہے۔ کینیڈا میں ہونے والے اس جائزے کی مدد سے ہم اس کا اندازہ زیادہ منضبط انداز میں کرسکتے ہیں، جہاں ان میں سے ہر ایک ، یکساں ماحول رہا ہے اور ہر ایک کو صحت کی دیکھ بھال کی ایک جیسی سہولتیں حاصل ہیں۔

چیو نے دل کی بیماری اور اسٹروک کے حوالے سے آٹھ بڑے خطرات کا بھی جائزہ لیا جن میں تمباکو نوشی ، فربہی ، ہائی بلڈ پریشر اور ذیابیطس شامل تھے۔ یہ عوامل بھی مختلف گروپس میں نمایاں طورپر مختلف تھے۔

مثال کے طورپر سفید فام باشندوں میں چینی اور جنوبی ایشیائی باشندوں کی نسبت تمباکو نوشی کا رجحان تین گنا زیادہ تھا ۔ جب کہ سیام فام لوگوں میں دوسرے دو گروپس کے ارکان کی نسبت ذیابیطس میں مبتلا ہونے کا امکان دوگنا زیادہ تھا۔

چیو کہتی ہیں کہ ہمارے جائزے میں ان خطرات کے کم یا زیادہ ہونے پر تحقیق نہیں کی گئی ۔ اہم بات یہ تھی کہ ہم نے صرف یہ دیکھا کہ وہ خطرات زیادہ یا کم تھے۔اب ہمارا اگلا قدم ان خطرات کے کم یا زیادہ ہونے کی وجوہات کا جائزہ لینا ہوگا۔

چیوکہتی ہیں کہ ان کی تحقیق سے اہم سوالات سامنے آئے ہیں اور ان کے جواب مختلف عوامل پر مبنی ہوسکتے ہیں۔ جن میں جینیاتی، ثقافتی اور سماجی اور اقتصادی عوامل شامل ہوسکتے ہیں۔

چیو نے یہ بھی کہا کہ ان کی تحقیق پالیسی سازوں کے لیے منصوبہ بندی میں مدد دے سکتی ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ مثال کے طورپر اگرہمیں تحقیق سے یہ معلوم ہوا ہے کہ ذیابیطس سیاہ فام اور جنوبی ایشیائی آبادیوں میں دوگنا زیادہ ہے اور ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ جنوبی ایشیا ئی اور سیاہ فام آبادیوں کی تعداد اگلے 20 سال میں دوگنا یا تین گنا تک ہوجائے گی تو پھر ہمیں اس حوالے سے صحت کی دیکھ بھال کی ضروریات کی منصوبہ بندی کرنا ہوگی۔ جب کہ ہمارے موجودہ اندازے سفید فام آبادی کو پیش نظر رکھ کرترتیب دیے گئے تھے۔

چیو کی یہ تحقیق کینیڈا کی میڈیکل ایسوسی ایشن کے جریدے میں شائع ہوئی ہے۔

XS
SM
MD
LG