رسائی کے لنکس

میری جدوجہدبھارتی عوام کےلیے ہے: ارون دھتی رائے

  • عمیر ریاض

فائل فوٹو

فائل فوٹو

رائے پر دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے ان کے مخالفین ہندوستان توڑنے کی سازشیں کرنے کے الزامات عائد کرتے آئے ہیں۔ تاہم رائے کا کہنا ہے کہ وہ ہندوستانی عوام کی محبت اور ان کے وقار کی خاطر لڑتی رہی ہیں اور اپنی جدوجہد جاری رکھیں گی

معروف بھارتی مصنفہ، صحافی اورانسانی حقوق کی کارکن ارون دھتی رائے کا کہنا ہےکہ ان کی جدوجہد ہندوستانی عوام کو ان کا وقار دلانے اور ان کی محبت کے حصول کیلئے ہے۔

وادی جموں و کشمیر کی ہندوستان کے فوجی تسلط سے آزادی کیلئے برسہا برس سے آواز بلند کرنے والی ارون دھتی رائے پر دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے ان کے مخالفین ہندوستان توڑنے کی سازشیں کرنے کے الزامات عائد کرتے آئے ہیں۔ تاہم رائے کا کہنا ہے کہ وہ ہندوستانی عوام کی محبت اور ان کے وقار کی خاطر لڑتی رہی ہیں اور اپنی جدوجہد جاری رکھیں گی۔

مس رائے کی جانب سے مذکورہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یہ اطلاعات گردش کررہی ہیں کہ ہندوستانی حکومت نے ان کی جانب سے "کشمیریوں کو انصاف فراہم کرنے" کی حالیہ اپیل سے برافروختہ ہوکر ان کی گرفتاری کے احکامات جاری کردئیے ہیں۔

وادی کشمیر کے دورے پر آئی ہوئی ارون دھتی رائے کی جانب سے گزشتہ روز ایک بیان جاری کیا گیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ "وہ دن ان کے ملک کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہوگا جب اس کے مصنفین کو اپنے خیالات کا پرچار کرنے کی پاداش میں ایک ایسے وقت میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں گی جب قاتلوں، لٹیروں، جنسی درندوں اور غریبوں کا استحصال کرنے والوں کو ملک میں گھومنے پھرنے کی کھلی آزادی ہے"

ارون دھتی رائے نے گزشتہ ہفتے نئی دہلی میں کشمیر کے موضوع پر ہونے والی ایک کانفرنس میں شرکت کی تھی جس میں کشمیری رہنما سید علی گیلانی نے وادی کی ہندوستان سے آزادی کے اپنے مطالبے کو دہرایا تھا۔ کانفرنس کے بعد سے بھارت کی انتہا پسند اپوزیشن جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے زیرِ اثر شائع ہونے والے اخبارات اور ٹی وی چینلز کی جانب سے ارون دھتی رائے کی گرفتاری کیلئے مہم چلائی جارہی ہے۔

سری نگر سے جاری کردہ اپنے بیان میں بھارتی مصنفہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے کانفرنس کے دوران جن خیالات کا اظہار کیا وہ مبنی بر انصاف تھے۔‘میں نے وہی کچھ کہا جو لاکھوں کشمیری روزانہ کہتے ہیں اور تجزیہ نگار برسوں سے لکھتے چلے آرہے ہیں۔’

اپنے بیان میں ارون دھتی رائے کا کہنا تھا کہ کچھ لوگوں کی جانب سے ان پر نفرت انگیز تقریریں اور بھارت کو تقسیم کرنے کے الزامات عائد کیے جارہے ہیں تاہم ان کے مطابق وہ ‘عام لوگوں کو اس بنیاد پر قتل ہونے، تشدد اور جنسی زیادتی کا نشانہ بننے سے بچانے کی جدوجہد کررہی ہیں کہ وہ اپنے آپ کو ہندوستانی تسلیم کیوں نہیں کرتے’۔

بھارتی وزیر انصاف مودبڑی ویراپا موئلی نے ارون دھتی رائے کے بیان کو انتہائی افسوسناک قرار دیا۔ایک اخباری بیان کے مطابق انہوں نے کہا کے اظہار رائے کی آزادی اپنی جگہ لیکن اس سے لوگوں کو حب الوطنی کے جذبات متاثر ہوتے ہیں۔ مسٹر موئلی نے ارون دھتی پر غداری کے الزامات کے بارے میں کوئی جواب نہیں دیا۔

XS
SM
MD
LG