رسائی کے لنکس

عالمی ادارہ ِصحت کے مطابق، 2011ء میں دنیا بھر میں تقریباً پانچ لاکھ بچے ٹی بی میں مبتلا ہوئے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اِن اعداد و شمار کو حتمی نہیں قرار دیا جا سکتا اور یہ تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے

ایک نئی تحقیق بتاتی ہے کہ بچوں میں تپ ِدق یا ٹی بی کے مرض میں مبتلا ہونے کی شرح گذشتہ جائزوں کی نسبت کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔

تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بچوں میں تپ ِدق کے مرض میں مبتلا ہونے کی شرح کے بارے میں پہلا جائزہ 2010ء میں لیا گیا تھا، جس میں معلوم ہوا کہ دنیا بھر میں 80 لاکھ بچے ٹی بی کے مرض میں مبتلا تھے۔

تحقیق کے مصنفین کا کہنا ہے کہ یہ ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے کہ مستقبل میں اس بیماری سے بچاؤ کے لیے کیا اقدامات اٹھائے جا سکتے ہیں، کیونکہ کم خرچ کی ادویات سے اس بیماری سے نمٹنا ممکن ہو سکتا ہے۔

عالمی ادارہ ِصحت کے مطابق 2011ء میں دنیا بھر میں تقریباً پانچ لاکھ بچے ٹی بی میں مبتلا ہوئے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان اعداد و شمار کو حتمی نہیں قرار دیا جا سکتا اور یہ تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔

عالمی ادارہ ِصحت نے ٹی بی کے کیسز کی بنیاد پر یہ اعداد و شمار جاری کیے ہیں۔ مگر عموماً تپ ِدق کے بہت سارے کیسز رجسٹر نہیں کیے جاتے۔ یوں، یہ کہا جا رہا ہے کہ ان اعداد و شمار میں ایک بڑی تعداد کو شامل نہیں کیا جا سکا۔

دوسری طرف، بچوں میں ٹی بی کی تشخیص کرنا ایک مشکل امر ہے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ بہت سے بچوں کو تپ ِدق کا مرض ان کے گھر میں سے کسی ایسے فرد سے ملتا ہے جو اس مرض میں مبتلا ہو۔

ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اب تک بچوں میں تپ ِ دق کو ایک بڑے مسئلے کے طور پر نہیں دیکھا گیا تھا۔ اس کی ایک وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ طبی ماہرین کو اندازہ نہیں تھا کہ بڑوں کی طرح بچوں میں بھی تپ ِ دق ایک بڑا مسئلہ ہے۔

XS
SM
MD
LG