رسائی کے لنکس

جس طرح شادی میں دو شریک حیات کے لیے آپس میں مطابقت ضروری ہے، تاکہ زندگی میں ایک توازن اور خوشحالی یقینی ہو، اس طرح، ملازمین اور کمپنی کی سوچ ایک ہی سمت میں ہونا بہت ضروری ہے

کہتے ہیں کہ انسان کو وہ کام کرنا چاہئیے جو اسے پسند ہو، یا وہ جو بھی کام کرے اس میں اُس کا دل لگتا ہو۔ لیکن، سوال یہ ہے کہ انسان اپنے کام میں دل لگانے کے لئے کیا کرے؟

’ریڈرز ڈائجسٹ‘ میں اس عنوان پر ایک تحریر میں چھ صائب مشورے دئے گئے ہیں، جن سے نہ صرف انسان کو نو بجے سے پانچ بجے والی نوکری میں مدد مل سکتی ہے، بلکہ اس کی ذہنی اور جسمانی صحت بھی بہتر رہے گی۔

مشورہ نمبر ایک: معاملات کو اپنے قابو میں لینا، یعنی کہ ہرروز اپنے کام میں اپنی پسند کی کوئی مصروفیت شامل کرنا۔ مثال کے طور پر کسی دوست سے ملنا یا لنچ کے وقت چہل قدمی کرنا۔

مشورہ نمبر دو: اپنے باس سے گھلنا ملنا، کیونکہ یہ تعلق کام پر خوش رہنے کی کنجی ہے اور اس لئے انسان کو یہ جاننا چاہئے کہ باس اس سے کیا توقع رکھتا ہے اور باقائدگی سے اپنی کارکردگی پر ان کی رائے جاننی چاہئے۔ اس طرح سے، اپنے باس کے ساتھ گفت و شنید کے ذریعے ایسی مزید ذمہ داریاں لی جاسکتی ہیں جو انسان کو پسند ہوں اور ایسے کچھ کاموں سے جان چھڑائی جا سکے جو اسے ناپسند ہوں۔

مشورہ نمبر تین: تعلقات بنانا۔ کیونکہ، کام پر انسان سارا دن اپنے ساتھ کام کرنے والوں کے ساتھ گزارتا ہے؛ اس لئے، اسے ان سے تعلقات بہتر بنانے چاہئیں اور جب بھی ان کے لئے کوئی اچھا کام کر سکتا ہو ضرور کرنا چاہئیے۔

مشورہ نمبر چار: منفی سوچ سے دور رہنا۔ اس کے لئے کام پر گلے شکوے کرنے والوں سے دور رہنا چاہئے اور اگر کچھ لوگ ایسا کرتے رہتے ہوں تو ان سے دور ان لوگوں کے ساتھ وقت گزارنا چاہئے جو خوشی خوشی کام کرتے ہیں۔ اس سے انسان کا موڈ بھی اچھا رہتا ہے اور وقت بھی جلدی گزر جاتا ہے۔

مشورہ نمبر پانچ: آج کا کام کل پر نہ ٹالنا۔ اور اگر کوئی کام انسان کو تنگ کر رہا ہو یا مشکل لگ رہا ہو تو اسے چھوٹے حصوں میں توڑ کر روزانہ تھوڑا تھورا کرنا چاہئے۔ اس طرح، وہ کام انسان کی توقع سے پہلے مکمل ہوجاتا ہے۔

چھٹا مشورہ: اپنی توانائی کو بڑھانا۔ اور، اس کے لئے کام پر صرف بیٹھا نہیں رہنا چاہئے، بلکہ ہلتے جلتے رہنا چاہئے۔ اگر کوئی بات معلوم کرنی ہو تو اٹھ کر اپنے ساتھ کام کرنے والوں کے پاس جانا چاہئے۔ اس سے انسان کا موڈ بھی اچھا رہتا ہے اور خود کے ساتھ دوسروں کی توانائی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

’وائس آف امریکہ‘ سے بات کرتے ہوئے امن ہیلتھ میں نئے کام کرنے والوں کی بھرتی کے شعبے کے سربراہ، شجاع احمد نے کہا کہ جس طرح شادی میں دو شریک حیات کی آپس میں مطابقت ہو تو زندگی خوشحال گزرتی ہے، اسی طرح، کام کرنے والوں اور کمپنی کی سوچ کا ایک ہی سطح پر ہونا بہت ضروری ہے۔ یعنی، جس کام کے لئے جو امیدوار مناسب ہو اسے ہی کام پر رکھا جائے۔ اور یوں، اپنے کام سے محبت کرنے کے لئے، آگے چل کر بھی یہ ہم آہنگی برقرار رکھنا لازمی ہے۔ ادھر، کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سربراہ ہارون نے کہا کہ اس مقصد کے حصول کے لئے پرخلوص محنت لازمی ہے۔
XS
SM
MD
LG