رسائی کے لنکس

ماہرین کا کہنا ہے کہ فی الحال اس ٹیسٹ سے یہ پتہ لگایا جا سکتا ہے کہ کونسے مریض ممکنہ طور پر الزائمرز کی بیماری میں مبتلہ ہونے والے ہیں اور پھر ایسے مریضوں پر الزائمرز کے مرض کے خاتمے کے لیے تجربات کیے جا سکتے ہیں

برطانوی سائنسدانوں نے انسانی خون میں 10 ایسی پروٹینز دریافت کی ہیں جن سے آنے والے برسوں میں کسی انسان میں یادداشت سے متعلق مرض الزائمرز کی ممکنہ بیماری میں مبتلا ہونے کے بارے میں پتہ لگایا جا سکے گا۔

دنیا بھر میں اسے طبی حوالے سے ایک اہم پیش رفت خیال کیا جا رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ فی الحال اس ٹیسٹ سے یہ پتہ لگایا جا سکتا ہے کہ کونسے مریض ممکنہ طور پر الزائمرز کی طرف بڑھ رہے ہیں اور پھر ایسے مریضوں پر الزائمرز کے مرض کے خاتمے کے لیے تجربات کیے جا سکتے ہیں۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ انہیں امید ہے کہ جلد ہی یہ ٹیسٹ عام لوگوں کے لیے بھی دستیاب ہوگا۔

سائمن لوو سٹون کا تعلق آکسفورڈ یونیورسٹی سے ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ، ’الزائمرز کے مریضوں میں اس مرض کی تشخیص گو کہ کئی سالوں بعد ہوتی ہے مگر الزائمرز بہت پہلے سے ہی انسانی دماغ کو متاثر کرنا شروع کر دیتا ہے۔ جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جب ہم الزائمرز کے مریضوں کو کوئی دوا دیتے ہیں تو وہ ان پر اس لیے اثر نہیں کرتیں کہ وہ الزائمرز کی پہلی سٹیج سے نکل چکے ہوتے ہیں‘۔

سائمن لوو سٹون کا مزید کہنا تھا کہ، ’یہ ایک خوش آئند بات ہے کہ ایک عام سے بلڈ ٹیسٹ سے مریضوں میں بہت پہلے ہی الزائمرز کی تشخیص ممکن ہو سکے گی اور اس سے الزائمرز کے حوالے سے نیا طریقہ ِعلاج ڈھونڈنے میں بھی مدد مل سکے گی‘۔

الزائمرز یادداشت سے متعلق ایک ایسی بیماری ہے جو عموماً معمر افراد کو لاحق ہوتی ہے۔ یہ ڈیمینشیا کی ایک قسم ہے۔ 2010ء کے ایک اندازے کے مطابق یادداشت سے متعلق بیماری ڈیمینشیا اور الزائمرز کی وجہ سے دنیا بھر کو 604 ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔

دنیا بھر میں چار کروڑ 40 لاکھ افراد اس خطرناک مرض میں مبتلا ہوتے ہیں اور الزائمرز کے ایک عالمی ادارے کے مطابق، 2050ء تک یہ تعداد تین گنا زیادہ ہو سکتی ہے۔

گو کہ الزائمرز کے بڑھتے مرض کے باعث طبی ماہرین اس مرض کے لیے طریقہ ِ علاج ڈھونڈنے کی تلاش میں ہیں۔ لیکن، تاحال اس مرض سے متعلق کوئی اہم پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔ گذشتہ 15 برسوں میں الزائمرز کے لیے تیار کردہ 100 تجرباتی ادویات کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔

XS
SM
MD
LG