رسائی کے لنکس

عالمی ادارہٴصحت کے سالانہ اعداد و شمار پر مبنی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 1990 ءکی بنسبت آج ایک انسان کی اوسط عمر میں چھ برس کا اضافہ ہوا ہے

عالمی ادارہ ِصحت کی جانب سے جاری کردہ ایک نئی رپورٹ کے مطابق، دنیا میں ایک انسان کی اوسط عمر میں اضافہ ہوا ہے۔

اعداد و شمار پر مبنی، ادارے کی سالانہ شماریاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 1990ء کی بنسبت آج کی دنیا میں ایک انسان کی اوسط عمر میں چھ برس کا اضافہ آیا ہے۔

عالمی ادارہ ِصحت کی رپورٹ کے مطابق، کم آمدنی والے ممالک میں اس حوالے سے واضح بہتری نمایاں ہے، اور یوں، 1990 ء سے 2012 ء کے دوران اوسط عمر 12 برس بڑھی ہے۔

عالمی ادارہٴ صحت میں ’ہیلتھ سٹیٹیسٹکس اینڈ انفارمیشن سسٹمز‘ کے سربراہ، ٹائز بورما کا کہنا ہے کہ: ’1990ء کے بعد سے اب تک بچوں کی اموات میں 47 فی صد کمی آئی ہے اور ماؤں کی اموات کی شرح میں 45 فی صد کمی آئی ہے‘۔

عالمی ادارہ ِصحت کے یہ اعداد و شمار 2014 کے لیے ہیں جس میں 194 ممالک شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں خواتین کی عمریں مردوں کی نسبت زیادہ ہیں اور یہ کہ امیر اور غریب ممالک میں اوسط عمر کا فرق اب بھی نمایاں ہے۔

رپورٹ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ بہت سے ایسے ممالک میں جہاں پر تمباکو نوشی کا استعمال کم ہوا ہے۔ وہاں پر، ایک عام انسان کی اوسط عمر میں اضافہ نوٹ کیا گیا ہے۔

سب سے زیادہ اوسط عمر میں اضافے والے ممالک میں لائبیریا، ایتھوپیا، مالدیپ، کمبوڈیا اور روانڈا شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، آئس لینڈ میں مردوں کی اوسط عمر سب سے زیادہ ہے جہاں ایک عام مرد ،اکاسی برس سے زیادہ عمر پاتا ہے۔ جاپان میں عورتوں کی اوسط عمر سب سے زیادہ رہی جہاں ایک عام خاتون 87 برس تک جیتی ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ ابھی بھی نو افریقی ممالک ایسے ہیں جہاں پر خواتین اور مردوں کی اوسط عمر 55 برس یا اس سے بھی کم ہے۔ اس کی وجوہات میں دل کی بیماریاں، نمونیا، ذیابیطس، بلند فشار خون اور فالج جیسی بیماریوں کا عام ہونا بھی بتایا جاتا ہے۔
XS
SM
MD
LG