رسائی کے لنکس

والدین کا بچے کے لیے ایک یا ایک سے زیادہ اضافی نام منتخب کرنا معاشرے میں بچے کی سماجی حیثیت میں اضافے کا سبب بنتا ہے: تحقیق

انسان زندگی میں جو لفظ سب سے زیادہ سنتا ہے وہ اس کا اپنا نام ہے۔ کہتے ہیں کہ نام کا شخصیت پرگہرا اثرہوتا ہے۔ اسی لیے بچوں کے ناموں کا انتخاب کرنے میں والدین خاص طور پر احتیاط برتتے ہیں۔

سائنسدانوں نے ایک حالیہ مطالعے میں اس خیال کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ زندگی میں حاصل کردہ کامیابیوں میں بچے کے نام کے مفہوم کا خاص دخل ہوسکتا ہے۔ لیکن نام کے علاوہ اضافی نام (مڈل نیم) دے کر والدین بچے کو کامیابی کے راستے پر ڈالنے میں مدد کرسکتے ہیں۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ والدین بچوں کومستقبل میں کامیاب و کامران دیکھنا چاہتے ہیں اور بچے کے لیے اس کا نام والدین کی جانب سے دیا جانے والا ایسا تحفہ ہوتا ہے جس سے اس کی پہچان بنتی ہے۔ لیکن والدین کا بچے کے لیے ایک یا ایک سے زیادہ اضافی نام منتخب کرنا معاشرے میں اس کی سماجی حیثیت کو فروغ دیتا ہے۔

ماہرین نفسیات کہتے ہیں کہ نام کے بعد اور ولدیت سے پہلے اضافی نام کا استعمال روزمرہ زندگی میں خود کو دوسروں کے سامنے ہوشیار اور ذہین ظاہر کرنے کا بے حد آسان طریقہ ہے جس کا نتیجہ کامیابی کی صورت میں نکلتا ہے۔

'ساوتھ ہمپٹن اورلمرک یونیورسٹی' سے تعلق رکھنے والے ماہرین نے کہا ہے کہ مڈل نام کے استعمال سے لوگوں کی نظروں میں کسی شخص کا سماجی رتبہ بڑھتا ہے کیونکہ زیادہ تر 'مڈل انیشل' کے حامل افراد ٹاپ پروفیشن کے ساتھ منسلک رہے ہیں۔

تجربات سے ظاہر ہوا کہ جن لوگوں کے ناموں میں اضافی نام شامل تھا، انھیں ذہنی مقابلے کے ایک پروگرام میں زیادہ بہتر منصف اور اعلٰی قابلیت رکھنے والا سمجھا گیا۔

سائنسی جریدے 'یورپین جرنل آف سوشل سائیکلوجی' میں شائع ہونے والے مطالعے کے مطابق بچے کے لیے اس کا اضافی نام پیدائش سے ہی مفید ثابت ہوتا ہے۔

'ساوتھ ہمپٹن یونیورسٹی' سے منسلک نفسیات کے پروفیسر وائنینڈ۔ اے۔ پی۔ ٹلبرگ اور ایرک۔ آر۔ آئگیو لمرک یونیورسٹی نے مطالعے میں لکھا ہے کہ کسی شخص کااضافی نام لوگوں پر اپنا تاثر قائم کرنے کے لحاظ سے بہت زیادہ اثر رکھتا ہے۔

مڈل نیم کے ساتھ لوگ آپ کو سماجی لحاظ سے بھی زیادہ بہترخیال کرتے ہیں۔ دوسری جانب اضافی نام دانشوارانہ صلاحیت اور کارکردگی کے اعتبار سے بھی دوسروں پرغیر جانبدارانہ مثبت اثرات قائم کرنے میں مدد کرتا ہے۔

'لمرک یونیورسٹی' سے وابستہ محققین نے 85 طالب علموں سے آئن اسٹائن کی تھیوری کی وضاحت میں مضمون لکھنے کے لیے کہا۔ مصنفین میں ڈیوڈ کلارک، ڈیوڈ ایف کلارک، ڈیوڈ ایف پی کلارک اور ڈیوڈ ایف پی آر کلارک شامل تھے۔ نتیجے میں مصنفین نے ڈیوڈ کلارک کے مقابلے میں ڈیوڈ ایف کلارک کو زیادہ بہترمصنف قراردیا۔

محققین نے لکھا ہے کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کسی شخص کا ایک اضافی نام دراصل مڈل نیم کی افادیت ظاہر کرنے کے لیے کافی ہے۔ تاہم ایک سے زائد اضافی نام رکھنے والے مصنف ڈیوڈ ایف پی آر کو تمام مصنفین میں سب سے زیادہ بہتر خیال کیا گیا۔

اسی طرح ایک اور تجربے میں لوگوں نے ایک کوئیز شو میں شامل ہونے کو ترجیح دی جس کے شرکا کے ناموں کے ساتھ اضافی نام بھی شامل تھا۔ لیکن مڈل نیم رکھنے والے شرکا کی ایک اسپورٹس ٹیم میں حصہ لینے کے لیے لوگوں نے زیادہ دلچسپی کا اظہارنہیں کیا۔

محققین نے لکھا ہے کہ لوگ زیادہ تر اضافی ناموں کو دانشوروں، وکلا اور ڈاکٹرز جیسے اہم رتبے والے پیشوں کےساتھ لکھا ہوا دیکھتے ہیں اور شاید اسی لیے مڈل نیم کو دانشوری کے ساتھ منسلک کرتے ہیں۔
XS
SM
MD
LG