رسائی کے لنکس

ایپی سینٹر کا کہناہے کہ اس مرض پر قابو پانے کے لیے دو ویکسین دستیاب ہیں جو ترقی یافتہ ممالک میں تیار ہوتی ہیں۔ وہ دونوں ترقی یافتہ ممالک میں 90 فی صد تک مؤثر ہیں جب کہ ترقی پذیر ملکوں میں ان کی افادیت کی شرح صرف 50 سے 60 فی صد تک ہے

طبی ماہرین کی ایک تنظیم ’ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز‘ کی ایک حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غریب ملکوں کے مقامی حالات میں ڈھالے بغیر صنعتی ممالک میں تیار کی جانے والی ویکسینوں سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کیے جاسکتے ، جس سے وہاں ہرسال پیدا ہونے والے دو کروڑ 20 لاکھ بچوں کو خطرات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

تحقیقی ادارے ایپی سینٹر کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق ایسے شواہد مسلسل بڑھ رہے ہیں کہ ایک طرح کی ویکسین تمام بچوں کے لیے یکساں طورپر مفید ثابت نہیں ہوسکتی۔

ادارے کی ڈائریکٹر ربیکا گریس کہتی ہیں کہ زندگی بچانے والی ویکسینوں کو افریقہ میں بچوں پر استعمال کرنے سے پہلے انہیں مقامی حالات کے مطابق ڈھالا جانا ضروری ہے۔

افریقہ کے اکثر علاقوں میں ویکسینوں کو کم درجہ حرارت پر محفوظ رکھنے کے لیے ریفریجیریٹر یا بجلی کی سہولت موجود نہیں ہے۔جب کہ انہیں ٹرانسپورٹ کے ذریعے دور دراز علاقوں میں اس طرح پہنچانا کہ ان کی افادیت زائل نہ ہو، ایک بڑا چیلنج ہے۔اور پھر یہ کہ وہاں استعمال کے لیے ویکسین کی مخصوص مقدار کا تعین بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔

گریس کہتی ہیں کہ ویکسینوں کی تیاری کے سلسلے میں ان پہلوؤں کو مدنظر رکھا جانا ضروری ہے۔

گریس کی قیادت میں ماہرین کی ایک ٹیم نے نائیجر میں پانچ سال سے کم عمر بچوں میں اسہال کے مرض پر دوسال تک تحقیق کی اور دس ہزار بچوں کے کیسوں کا جائزہ لیا۔ نائیجر میں اسہال کی بیماری کم عمر بچوں میں اموات کا ایک بڑا سبب ہے۔

ایپی سینٹر کا کہناہے کہ اس مرض پر قابو پانے کے لیے دو ویکسین دستیاب ہیں جو ترقی یافتہ ممالک میں تیار ہوتی ہیں۔ وہ دونوں ترقی یافتہ ممالک میں 90 فی صد تک مؤثر ہیں جب کہ ترقی پذیر ملکوں میں ان کی افادیت کی شرح صرف 50 سے 60 فی صد تک ہے۔

گریس کہتی ہیں کہ اگرچہ ان کی تحقیق صرف اسہال سے بچاؤ کی ویکسین پر مرکوز تھی لیکن یہ رپورٹ دیگر بیماریوں کی ویکسینوں سے بھی عمومی طور پر مطابقت رکھتی ہے۔

ایپی سینٹر کے تحت ان دنوں چاڈ اور یوگنڈا میں بھی دو سائنسی مطالعوں پر کام ہورہاہے ۔ چاڈ میں ٹیٹنس کی ویکسین کے مؤثر ہونے پر تجربات کیے جارہے ہیں جب کہ یوگنڈا میں نمونیہ کی ویکسین کی افادیت کا جائزہ لیا جارہاہے۔

ماہرین کو توقع ہے کہ یہ سائنسی جائزے ان ادویات ساز کمپنیوں کو مفید معلومات اور راہنمائی مہیا کریں گے جو غریب ممالک کو بھی ادویات فراہم کرتی ہیں۔
XS
SM
MD
LG