رسائی کے لنکس

ماہرین کہتے ہیں کہ کامیابی کا راز صرف محنت میں نہیں۔ بلکہ، عقلمندی سے کام کرنے میں پوشیدہ ہے۔۔۔ اور یہی راز کامیاب لوگوں کو دوسروں سے ممتاز کرتا ہے

لوگ ایک دوسرے سے دن دوگنی رات چوگنی ترقی کرنے کی نیک خواہشات کا رسمی اظہار تو کرتے ہیں، لیکن یہ نہیں بتاتے کہ اتنی ساری کامیابی حاصل کیسے کی جائے؟ اور، اگر کامیابی کا راز بتاتے بھی ہیں تو سارے کا سارا زور محنت پہ ہی دیتے ہیں۔

امریکی ماہر نفسیات میلانی گرین برگ لکھتی ہیں کہ کامیابی کا راز صرف محنت میں نہیں، بلکہ عقلمندی سے کام کرنے میں پوشیدہ ہے۔ اور یہی راز کامیاب لوگوں کو دوسروں سے ممتاز کرتا ہے۔

کیلیفورنیا میں پریکٹس کرنے والی، میلانی گرین برگ کے مطابق آج کی مصروف زندگی میں لوگوں کو محدود وقت میں بہت سے کام کرنے پڑتے ہیں۔ اور روز مرہ کے کاموں میں وہ دور رس کامیابی کے لئے ضروری کام نہیں کر پاتے، جبکہ کامیاب لوگوں کو پتا ہوتا ہے کہ کون سا کام کتنا ضروری ہے اور وہ اپنے بہتر مستقبل کے لئے نئی نوکری، کاروبار یا کسی بھی اور مقصد کے لئے تحقیق، لوگوں سے رابطے اور تیاری کے لئے ضرور وقت نکالتے ہیں۔

میلانی کہتی ہیں کہ کامیاب لوگ صرف خواب ہی نہیں دیکھتے، بلکہ ان کو حقیقت میں بدلنے کے لئے اپنی پیشرفت پر بھی نظر رکھتے ہیں۔ اور، ایک بڑے اور طویل کام کو چھوٹے چھوٹے حصوں میں تقسیم کر لیتے ہیں، تاکہ ہر چھوٹی کامیابی سے ان کا حوصلہ بڑھتا رہے۔

ہمیشہ اپنی ترجیحات کو یاد رکھنے اور اپنی سکت سے زیادہ ذمہ داری قبول نہ کرنے پر زور دیتے ہوئے، ماہر نفسیات میلانی گرین برگ کا کہنا ہے کہ انسان کو سارا کام اکیلے ہی کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے، بلکہ دوسروں کی مدد حاصل کرنی چاہئے۔ دوسروں سے مشورہ کرنا چاہئے اور دوسروں کے تجربات سے سیکھنا چاہئے۔

وہ کہتی ہیں کہ کامیابی کے سفر میں اپنے آپ کو تازہ دم رکھنے کے لئے نیند پوری کرنا، ورزش کرنا، اپنے من پسند مشاغل کو جاری رکھنا اور اپنی کامیابی کا جشن مناتے رہنا نہایت ضروری ہے۔

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں واقع جناح پوسٹ گریجوئٹ میڈیکل سینٹر کے شعبہٴاعصابیات اور شعبہٴنفسیات کے سربراہ، پروفیسر ڈاکٹر اقبال آفریدی نے اس موضوع پر ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ سب سے پہلے تو کامیابی کی تعریف کر لینی چاہئے کہ ہم کامیابی سمجھتے کس بات کو ہیں۔

پروفیسر آفریدی نے بتایا کہ کامیاب زندگی کے لئے ذہنی صحت کا فروغ لازمی ہے۔ اس مقصد کے لئے انفرادی طور پر اپنے احساسات کا شائستہ اظہار، متوازن غذا، ورزش، اپنے کام، آرام اور خاندان کو دیے جانے والے وقت میں توازن اور مثبت سوچ ضروری ہیں، جبکہ اجتماعی سطح پر باہمی تعلقات اور رابطوں کو بہتر بنانا شامل ہے۔

پروفیسر صاحب کا کہنا تھا کہ مغرب میں تو کامیابی بینک بیلنس اور مادی چیزوں کو سمجھا جاتا ہے اور رشتوں کو وہ اہمیت نہیں دی جاتی جو دی جانی چاہئے۔

اس لئے ہی جہاں بچہ 18 سال کا ہوا، ماں باپ کو چھوڑ دیتا ہے، بلکہ انھیں بوڑھوں کے لئے مخصوص رہائش گاہوں میں چھوڑ آتا ہے۔ جبکہ، ہمارے ہاں کامیابی کی بنیاد خاندان ہے جس کے اراکین آپس میں پیار محبت سے رہیں، سادگی، درگزر، صبر، شکر اور قناعت پسندی کے ساتھ ساتھ دوسروں میں اچھائیاں ڈھونڈنے کی عادت ڈالیں تو دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG