رسائی کے لنکس

کینیا کے خلاف قدم اُٹھایا جائے: بین الاقوامی عدالتِ انصاف کا مطالبہ


سوڈان کے صدر عمر البشیر

گرفتاری کے بین الاقوامی وارنٹس کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سوڈان کے صدر کی میزبانی کرنے پر بین الاقوامی عدالتِ انصاف، اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل سے کینیا کے خلاف قدم اُٹھانے کا مطالبہ کر رہی ہے۔

بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے ججوں نے جمعے کے روزہیگ میں کہا کہ عدالت کے رُکن ہونے کے ناطے کینیا کی یہ واضح ذمہ داری ہے کہ وہ سوڈان کے صدر عمر البشیر کی گرفتاری کے وارنٹوں پر عمل درآمد کرنے میں تعاون کرے۔

مسٹر بشیر اُن متعدد علاقائی رہنماؤں میں شامل تھے جوجمعے کو کینیا کے نئے آئین پر دستخط کی تقریب میں شرکت کے لیے نیروبی پہنچے۔ کینیاکے وزیرِ خارجہ موزز ویٹنگلا کہتے ہیں کہ مسٹر بشیر کو اِس لیے مدعو کیا گیا کیونکہ وہ ایک دوست ہمسایہ ملک کے سربراہ ہیں۔

جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم اور سوڈان کےدارفر علاقے میں قتلِ عام کے الزامات پرمسٹر بشیر، بین الاقوامی عدالتِ انصاف کو مطلوب ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے اندازوں کے مطابق تنازعے کے باعث 300000افراد ہلاک ہوچکےہیں۔

بین الاقوامی عدالتِ انصاف نے کہا ہے کہ وہ کینیا کے رویے کے بارے میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کو رپورٹ کر رہی ہے تاکہ کونسل کوئی مناسب اقدام اٹھا سکے۔

امریکی صدر براک اوباما نے جمعے کو کہا کہ اُنھیں اِس بات پر مایوسی ہوئی کہ کینیا نے صدر بشیر کی مہانداری کی ہے۔ اُنھوں نے نیروبی پر زور دیا کہ وہ آئی سی سی اور بین الاقوامی انصاف کے تقاضوں کے ساتھ اپنے وعدوں کا احترام کرے۔

آئی سی سی نے سب سے پہلے 2009ء میں مسٹر بشیر کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کیےتھے۔ تب سے لے کر وہ کئی ایسی علاقائی مملکتوں کا دورہ کر چکے ہیں جو عدالت کے مکمل رُکن نہیں ہیں، بشمول مصر، اریٹریا، اتھیوپیا، لیبیا، قطر اور سعودی عرب۔

کینیا ، آئی سی سی کا دوسرا مکمل رُکن ملک ہے جِس نے وارنٹس کی خلاف ورزی کرتے ہوئےمسٹر بشیر کو مدعو کیا۔ چاڈ پہلا ملک تھا جس نے گذشتہ سال سوڈانی صدر کی میزبانی کی۔

XS
SM
MD
LG