رسائی کے لنکس

امن کے سمجھوتے کے باوجود دارفُر میں لڑائى جاری ہے: امدادی تنظیم


امن کے سمجھوتے کے باوجود دارفُر میں لڑائى جاری ہے: امدادی تنظیم

امن کے سمجھوتے کے باوجود دارفُر میں لڑائى جاری ہے: امدادی تنظیم

فرانس کی ایک امدادی تنظیم کا کہنا ہے کہ عین اُس دن جب سوڈان کے صدر عمر البشیر یہ اعلان کررہے تھےکہ اُن کے ملک کے علاقے دافُر میں سات سال سے جاری جنگ ختم ہوگئى ہے، از سر نو چِھڑ جانے والی لڑائى کی وجہ سے دار فُر کے علاقے جبل مرّا سے ایک لاکھ لوگوں کو اپنے گھروں سے فرار ہونا پڑا۔

دنیا کے ڈاکٹر نامی تنظیم نے کہا ہے کہ حکومت نے بدھ کے روز اپنے حملےمیں سوڈان کی سپاہِ آزادی کے مضبوط ٹھکانے کو ہدف بنایا تھا۔

ڈاکٹروں کی تنظیم نے کہا ہے کہ لڑائى کی وجہ سے خود انہیں اپنی کارروائیاں معطل کرنا پڑیں۔

حکومت نے اس علاقے میں کسی بھی لڑائى کے بارے میں لاعلمی ظاہر کی ہے۔

مسٹر بشیر نے نے بدھ کے روز شمالی دارفُر کے صدر مقام الفاشر میں کہا تھا کہ دارفُر میں جنگ اور بحران ختم ہوگیا اور ترقیاتی کاموں کے لیے ایک جنگ شروع ہوگئى ہے۔

مسٹر بشیر کے اس بیان سے ایک دن پہلے حکومت نے دار فُر کی سب سے طاقتور باغی تنظیم ، تحریکِ انصاف و مساوات یا جَیم کے ساتھ فائر بندی کے ایک سمجھوتے پر دستخط کیے تھے۔ اسی سمجھوتے میں کہا گیا ہے کہ دونوں فریق15 مارچ تک قیامِ امن کا کوئى حتمی سمجھوتا طے کریں گے۔

باغیوں کے چھوٹے گروپوں نے اس سمجھوتے کو رد کردیا ہے۔

XS
SM
MD
LG