رسائی کے لنکس

گرفتاری کے مطالبات: سوڈان کے صدر نائیجیریا سے روانہ


سوڈان کے صدر عمر البشیر

سوڈان کے صدر عمر البشیر

ہیومن رائٹس واچ اور ایک مقامی گروپ ’دی نائیجیرین کوالیشن فار دی انٹرنیشنل کرمنل کورٹ‘ کا موقف ہے کہ جرائم کے خلاف عالمی عدالت کا رکن ہونے کے ناطے نائیجیریا پر یہ لازم ہے کہ وہ عمر البشیر کو گرفتار کرے۔

سوڈان کے صدر عمر البشیر انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے جنگی جرائم کے الزامات میں گرفتاری کے مطالبے کے بعد نائیجیریا سے روانہ ہو گئے ہیں۔

ابوجا میں سوڈان کے سفارتخانے کے حکام نے بتایا کہ صدر بشیر ایڈز پر افریقی یونین کی کانفرنس میں شرکت کے لیے یہاں آئے تھے لیکن 24 گھنٹوں سے بھی کم وقت یہاں رکنے کے بعد پیر کی دوپہر روانہ ہو گئے تھے۔

انسانی حقوق کے کارکنوں نے نائیجیریا کی ایک وفاقی عدالت عالیہ میں مقدمہ دائر کیا ہے جس میں جرائم کے خلاف عالمی عدالت کو سوڈان کے علاقے دارفور میں نسل کشی کے الزامات میں مطلوب صدر بشیر کو گرفتار کرنے کا کہا گیا ہے۔

سوڈان کے سفارتی حکام کا کہنا تھا کہ صدر کی روانگی کا گرفتاری کے مطالبے سے کوئی تعلق نہیں۔

ہیومن رائٹس واچ اور ایک مقامی گروپ ’دی نائیجیرین کوالیشن فار دی انٹرنیشنل کریمنل کورٹ‘ کا موقف ہے کہ جرائم کے خلاف عالمی عدالت کا رکن ہونے کے ناطے نائیجیریا پر یہ لازم ہے کہ وہ عمر البشیر کو گرفتار کرے۔

نائیجیریا کے ایک صدارتی ترجمان نے اشارہ دیا تھا کہ حکام بشیر کو گرفتار نہیں کریں گے۔

ترجمان نے کہا کہ مسٹر بشیر افریقی یونین کی دعوت پر یہاں آئے تھے جس نے سوڈانی صدر کی طرف سے جرائم کے خلاف عالمی عدالت کے سامنے پیش ہونے کے انکار کی حمایت کی تھی۔

جرائم کے خلاف عالمی عدالت نے بشیر پر جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم اور دارفور میں نسل کشی کے مرتکب ہونے کے الزام عائد کیے ہیں۔

عدالت نے ان پر خطے میں شہریوں کے خلاف قتل، جنسی تشدد جیسے جرائم کے الزامات بھی عائد کیے ہیں۔ اس خطے میں 2003ء سے باغی گروپ بشیر کی حکومت کے خلاف لڑائی میں مصروف رہے ہیں۔

عمر البشیر ان الزامات سے انکار کرتے ہوئے جرائم کی عالمی عدالت کی طرف سے جاری وارنٹ گرفتاری کو مسترد کر چکے ہیں۔ لیکن وہ صرف ایسے ملکوں کا دورہ کرتے ہیں جو جرائم کی عالمی عدالت کے رکن نہ ہوں یا وہ ان کی سلامتی کی ضمانت دیں۔

جنوبی افریقہ سمیت متعدد افریقی ملکوں میں سوڈان کے صدر کے داخلے کی ممانعت ہے۔
XS
SM
MD
LG