رسائی کے لنکس

ریفرنڈم سے قبل صدر عمرالبشیر کا جنوبی سوڈان کا دورہ

  • میٹ رچمونڈ

صدرعمرالبشیر کا جنوبی سوڈان کا دورہ (فائل فوٹو)

صدرعمرالبشیر کا جنوبی سوڈان کا دورہ (فائل فوٹو)

آزادی کے بارے میں ووٹنگ نو جنوری سے پندرہ جنوری تک ایک ہفتے تک جاری رہے گی۔ 2005ء میں جو امن سمجھوتہ ہوا تھا یہ ریفرینڈم اس کا بنیادی عنصر ہے۔ اس امن سمجھوتے کے ذریعے شمال اور جنوب کے درمیان اکیس سالہ خانہ جنگی ختم ہوئی تھی۔ توقع ہے کہ جنوب کے لوگوں کی بھاری اکثریت علیحدگی کے حق میں ووٹ دے گی۔ جوبا کے ایئرپورٹ سے صدر کے کمپاؤنڈ تک جن سڑکوں سے ہو کر صدر بشیر کو گذرنا تھا ان پر لوگوں کا ہجوم تھا۔ جوبا کے شہریوں کے چہروں پر جو مسکراہٹ تھی وہ عام طور سے دیکھنے میں نہیں آتی۔

جنوبی سوڈان کی آزادی پر ہونے والے ریفرینڈم میں اب صرف چار دن باقی رہ گئے ہیں۔ سوڈان میں وائس آف امریکہ کے نامہ نگار میٹ رچمونڈ نے اطلاع دی ہے کہ سوڈان کے صدر عمر البشیر نے جنوبی سوڈان کے دارالحکومت جوبا کا دورہ کیا ہے۔

صدرعمرالبشیر کا دورہ اس بات کی ایک اور علامت ہے کہ جنوبی سوڈان کی آزادی کے سوال پر ووٹنگ کے نتیجے میں جنگ نہیں چھڑے گی۔

جوبا کے بین الاقوامی ایئرپورٹ پر صدر بشیر کا استقبال جنوبی سوڈان کے صدر سلوا کیر ’’Salva Kiir ‘‘ نے اور جنوبی حکومت کے دوسرے اعلیٰ عہدے داروں نے کیا۔

جنوبی سوڈان میں رہنے والے لوگ اتوار کے روز ووٹ ڈالنا شروع کریں گے اور اپنے ووٹ کے ذریعے یہ بتائیں گے کہ وہ شمال کے ساتھ متحد رہنا چاہتے ہیں یا الگ ہو کر اپنا الگ ملک قائم کرنا چاہتے ہیں۔

صدر عمر البشیر (فائل فوٹو)

صدر عمر البشیر (فائل فوٹو)

مسٹر بشیر نے کہا کہ ان کی حکومت ایسا مستقبل چاہتی ہے جس میں شمال اور جنوب کے درمیان پُر امن تعاون ہو۔ ’’اگر جنوبی سوڈان نے آزادی کے حق میں ووٹ دیا تو دونوں ملکوں کے درمیان اقتصادی، سیاسی اور سماجی تعلقات قائم ہوں گے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ ہمیشہ سے ایک ہی قوم رہی ہے اور سرحدی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کے شمالی اورجنوبی سوڈان دونوں کے ساتھ خاص طور سے قریبی تعلقات ہوں گے‘‘۔

آزادی کے بارے میں ووٹنگ نو جنوری سے پندرہ جنوری تک ایک ہفتے تک جاری رہے گی۔ 2005ء میں جو امن سمجھوتہ ہوا تھا یہ ریفرینڈم اس کا بنیادی عنصر ہے۔ اس امن سمجھوتے کے ذریعے شمال اور جنوب کے درمیان اکیس سالہ خانہ جنگی ختم ہوئی تھی۔ توقع ہے کہ جنوب کے لوگوں کی بھاری اکثریت علیحدگی کے حق میں ووٹ دے گی۔

جوبا کے ایئرپورٹ سے صدر کے کمپاؤنڈ تک جن سڑکوں سے ہو کر صدر بشیر کو گذرنا تھا ان پر لوگوں کا ہجوم تھا۔ جوبا کے شہریوں کے چہروں پر جو مسکراہٹ تھی وہ عام طور سے دیکھنے میں نہیں آتی۔

اُنھوں نے چار فٹ طویل کاغذ کے بنے ہوئے ہاتھ لہرائے جن پر لکھا تھا علیحدگی کا وقت آ گیا ہے۔ ان کے ہاتھوں میں چھوٹی چھوٹی جھنڈیاں تھیں جن پر علیحدگی کی علامتی تصویریں بنی ہوئی تھیں اور کھلے ہاتھوں سے خدا حافظ کہتے دکھایا گیا تھا۔ اپنی آمد کے کچھ دیر بعد تقریر کرتے ہوئے مسٹر بشیر نے بھی اعتراف کیا کہ امکان یہی ہے کہ لوگ علیحدگی کے حق میں ووٹ دیں گے۔ انھوں نے کہا کہ سب سے پہلے ان کی حکومت جوبا آئے گی اور جنوب کے رہنے والوں کو آزادی کی مبارکباد دے گی۔

لیکن کسی رکاوٹ کے بغیر علیحدگی ہونے سے پہلے کچھ مسائل طے کرنا باقی ہیں۔ دونوں فریقوں میں شمال میں رہنے والے جنوب کے باشندوں کی شہریت کے بارے میں اتفاق رائے نہیں ہوا ہے ۔ نہ ہی یہ بات طے ہوئی ہے کہ تیل کی دولت کس طرح تقسیم کی جائے گی یا یہ کہ ملک کا 38 ارب ڈالر کا قرض کس طرح بانٹا جائے گا۔

2005ء میں سمجھوتے پر دستخط ہونے کے بعد کئی برسوں کی تاخیر ہوئی اور شمال اور جنو ب کی بر سرِ اقتدار پارٹیوں کے درمیان مہینوں تک ایک دوسرے پر الزامات لگائے جاتے رہے۔ لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ شمال کی حکومت کے اعلیٰ عہدے داروں نے جنوب کی علیحدگی کو قبول کرنا شروع کر دیا ہے۔

جنوبی حکومت کے وزیر ِ اطلاعات برنابا میریل بینجمن ’’ Barnaba Marial Benjamin ‘‘ نے کہا کہ جنوب شمال کے خیر سگالی کے جذبات کی قدر کرتا ہے۔ ’’صدر بشیر نے یہ بات زور دے کر کہی ہے کہ اگر جنوبی سوڈان کے لوگ آزاد ریاست بننے کا فیصلہ کرتے ہیں تو ان کی حکومت سب سے پہلے نو زائیدہ مملکت کو تسلیم کر لے گی۔ میرے خیال میں یہ بڑا شاندار بیان ہے‘‘۔

صدر کی ملاقاتوں کے اختتام پر ایک پریس کانفرنس ہوئی۔ جنوبی حکومت نے اعلان کیا کہ وہ دارفر کے باغیوں کو جنوب میں ٹھرنے کی اجازت نہیں دے گی۔ دونوں فریقوں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ وہ نو جولائی سے پہلےریفرینڈم کے بعد پیدا ہونے والے تمام مسائل حل کر لیں گے ۔ جنوب کی ممکنہ آزادی کی سرکاری تاریخ نو جولائی ہے۔

XS
SM
MD
LG