رسائی کے لنکس

سوڈانی صدر ریفرنڈم سے قبل جنوبی علاقے کا دورہ کرینگے


جنوری 03، 2011، جنوبی سوڈان ریفرنڈم بیورو کے چیرمین چان ریک مادوت 9 جنوری کو ہونے والے ریفرینڈم کے بارے میں بات کررہے ہے۔

جنوری 03، 2011، جنوبی سوڈان ریفرنڈم بیورو کے چیرمین چان ریک مادوت 9 جنوری کو ہونے والے ریفرینڈم کے بارے میں بات کررہے ہے۔

سوڈان کی حکمران جماعت کے ایک اہم رہنما کا کہنا ہے کہ سوڈانی صدر عمر البشیر ملک کے جنوبی حصے کی آزادی کیلیے 9 جنوری کو ہونے والے ریفرنڈم سے قبل علاقے کا دورہ کرینگے۔

حکمران جماعت کے ربی عبدلاطی عبید نامی ایک اہم رہنما نے پیر کے روز صحافیوں کو بتایا کہ سوڈانی صدر کے مجوزہ دورے سے حکومت کی جانب سے جنوبی خطے سے تعلقات میں بہتری لانے کی خواہش کا اظہار ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ سوڈانی صدر کا دورہ اس بات کا اعلان ہوگا کہ اگر ریفرنڈم میں نیم خودمختار جنوبی سوڈان نے مکمل آزادی کا فیصلہ بھی کیا تو سوڈانی حکومت کے ساتھ اس کے تعلقات خوشگوار رہینگے۔

حکمران جماعت کے رہنما کا کہنا تھا کہ صدر عمر البشیر اپنے دورے کے دوران ریفرنڈم کی تیاریوں کا جائزہ لینے کے علاوہ ریفرنڈم کے "آزادانہ، منصفانہ اور شفاف" طریقے سے انعقاد کو یقینی بنانے کیلیے جنوبی علاقے کے رہنمائوں سے تبادلہ خیال بھی کرینگے۔

تاہم حکومت کی جانب سے سوڈانی صدر کے دورے کی حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔

جمعہ کے روز ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر عمر البشیر نے کہا تھا کہ ان کی حکومت ریفرنڈم کے انعقاد کیلیے مکمل طور پر تیار ہے اور اس کے نتائج کو تسلیم بھی کرے گی۔

واضح رہے کہ آئندہ ہفتے ہونے والا ریفرنڈم 2005 میں عالمی برادری کی مداخلت پر ہونے والے اس امن معاہدے کے تحت منعقد ہورہا ہے جس کے ذریعے سوڈان کے شمالی اور جنوبی علاقوں کے درمیان بیس سال سے جاری خانہ جنگی کا خاتمہ ہوا تھا۔

خطے میں ریفرنڈم سے قبل جنوبی اور شمالی سوڈان کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر انتہا کو پہنچی ہوئی ہے جبکہ دونوں جانب کے حکام کے مابین سرحدی تنازعات، تیل کی آمدن سے متعلق امور ، اور معدنی وسائل سے مالامال "ابی" نامی علاقے کی ملکیت پر موجود اختلافات سنگین ہوگئے ہیں۔

تاہم جنوبی سوڈان کے ریفرنڈم کمیشن کا کہنا ہے کہ ایک "قابلِ بھروسا" ریفرنڈم کے انعقاد کیلیے تمام تیاریاں حسبِ پروگرام کی جارہی ہیں۔

سوڈان کی آئینی عدالت میں کئی ملکی تنظیموں کی جانب سے جنوبی سوڈان کے ریفرنڈم کمیشن کی معطلی کیلیے درخواستیں بھی دائر کی گئی ہیں جن پر رواں ہفتے فیصلہ متوقع ہے۔ درخواستوں میں کمیشن کی جانب سے حال ہی میں ووٹر رجسٹریشن کے عمل کے دوران رائے دہندگان کو ڈرانے دھمکانے اور مبینہ فراڈ کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

XS
SM
MD
LG