رسائی کے لنکس

سوڈان: جنوبی حصے کی آزادی کے لیے ریفرنڈم مکمل


انتخابی عہدے دار ریفرنڈم مکمل ہونے کے بعد بیلٹ باکس واپس لے جارہے ہیں

انتخابی عہدے دار ریفرنڈم مکمل ہونے کے بعد بیلٹ باکس واپس لے جارہے ہیں

سوڈان کے جنوبی حصے کی آزادی کے لیے تاریخی ریفرنڈم کی ووٹنگ سات دن تک جاری رہنے کے بعد ہفتے کے روز ختم ہوگئی اور ابتدائی اشاروں سے لگتا ہے کہ وہاں پر بڑی تعداد میں لوگوں نے ملک کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کے لئے ووٹ ڈالے ہیں۔

جنوبی سوڈن کے لوگوں کو توقع ہے کہ ووٹ کی طاقت سے ان کا علاقہ ملک کے شمالی حصے سے الگ ہو کر دنیا کے نقشے پر ایک نئی مملکت کی شکل میں ظاہر ہوگا۔ ہفتے کی شام سورج غروب ہونے کے ساتھ ہی پولنگ اسٹیشنوں کے دروازے بند کردیے گئے۔

ریفرنڈم کے ابتدائی نتائج کا اعلان 31 جنوری کو ہوگا اور حتمی نتائج چھ فروری یا اس سے قبل متوقع ہیں۔مگر ابتدائی طور پر ایسے اشارے مل رہے ہیں کہ وہاں کے لوگوں نے بڑی تعداد میں شمال سے الگ ہوکر ایک نیا ملک بنانے کے حق میں ووٹ دیا ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے جنوبی سوڈان میں اہم شہر جوبا میں دس مقامات کے ایک جائزے کے مطابق تیس ہزار ووٹوں میں سے تقریباً96فی صد نے الگ وطن کے حق میں ووٹ ڈالے ہیں۔ انتخابی عہدے داروں نے تصدیق کی ہے کہ ریفرنڈم کی قانونی حیثیت کے لیے ڈالے گئےووٹوں کی تعداد 60 فی صد سے زیادہ ہونا ضروری ہے۔

جنوبی سوڈان کے اہم رہنما سلوا کر نے اتوار کو اپنے ایک بیان میں اپنے حمایتیوں سے خانہ جنگی میں شمال کے کردار پر اسے معاف کردینے کی اپیل کی ہے۔

گذشتہ ہفتے کے روز اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بن کی مون نے2005ء میں امن معاہدے پر دستخط کرنے والی جماعتوں اور جنوبی سوڈان کے ریفرنڈم کمشن کو سراہا تھا جنہوں نے آزادی کی سمت قدم بڑھانے کے لیے ریفرنڈم کی راہ ہموار کی تھی۔انہوں نے تمام سوڈانیوں پر زور دیا کہ وہ حتمی نتائج کے اعلان کا صبرو سکون کے ساتھ انتظار کریں۔ اس معاہدے کے تحت سوڈان میں شمال میں مسلمان اکثریت اور جنوب میں عیسائی آبادی کے درمیان اکیس سالہ خانہ جنگی کا خاتمہ ہوا تھا۔

XS
SM
MD
LG