رسائی کے لنکس

سوڈان اور جنوبی سوڈان کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے ہونے والے مذاکرات بدھ کو مسلسل دوسرے روز بھی جاری ہیں۔

ایتھوپیا کے دارالحکومت عدیس ابابا میں ہونے والی مذاکرات کے بارے میں 'وائس آف امریکہ' کے ایک مقامی نمائندے کا کہنا ہے کہ مذاکرات کا ماحول کشیدہ ہے۔

دونوں ممالک کے حکام مذاکرات کے ذریعے تیل کے ذخائر اور ان کی ترسیل، سرحدوں اور شہریت کے حقوق سے متعلق تنازعات طے کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

قبل ازیں منگل کو مذاکرات کے پہلے روز شمال میں رہنے والے جنوبی باشندوں کے حقوق کے بارے میں گفت و شنید کے دوران میں فریقین کے مابین تلخ کلامی ہوگئی تھی جس کے بعد اجلاس ختم کردیا گیا تھا۔ مذاکرات میں شریک ایک عہدیدار کا کہنا ہے کہ مذکورہ معاملہ پر گفتگو کا سلسلہ ممکنہ طور پر روک دیا گیا ہے اور اب تیل اور سرحدوں کے تعین کے بارے میں موجود تنازعات پر بات کی جارہی ہے۔

منگل کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے سوڈان اور جنوبی سوڈان کی سرحدوں پر فوجی دستوں کی نقل و حمل اور فضائی حملوں کی اطلاعات پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے تمام فریقین سے علاقے میں فوجی کاروائیاں روکنے کا مطالبہ کیا تھا۔

دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کی ایک اہم وجہ تیل کی ترسیل پر کھڑا ہونے والا تنازع ہے۔ سوڈان کے تیل کے بیشتر ذخائر گزشتہ برس جولائی میں آزاد ہونے والے جنوبی سوڈان کے حصے میں آئے ہیں جو خشکی سے گھرا ہونے کے باعث اپنے تیل کی برآمد کے لیے شمالی علاقے سے گزرنے والی پائپ لائنوں کا محتاج ہے۔

جنوبی سوڈان شمالی علاقے کو تیل کی ترسیل کی مد میں عائد معاوضے کی ادائیگی سے انکاری ہے اور اس کا اصرار ہے کہ سوڈان اس کا تیل چرانے کے علاوہ اس سے بھاری معاوضہ بھی طلب کر ر ہا ہے۔

تنازع کے باعث جنوبی سوڈان نے تیل کی اپنی تمام پیداوار بند کردی ہے جس کا معاشی نقصان دونوں ممالک کو ہورہا ہے۔

XS
SM
MD
LG