رسائی کے لنکس

سوڈان: ریفرنڈم کے بعد کے حالات کا ایک جائزہ

  • ولیم ایگل

سوڈان: ریفرنڈم کے بعد کے حالات کا ایک جائزہ

سوڈان: ریفرنڈم کے بعد کے حالات کا ایک جائزہ

اگر جیسا کہ توقع کی جا رہی ہے، جنوبی سوڈان نے آزادی کا انتخا ب کیا، تو سوڈان اور اس کی جنوبی سرحد پر نئے آزاد ملک کے درمیان نئے سمجھوتوں کے لیئے مذاکرات ہوں گے تا کہ دونوں ملکوں کے تعلقات کی نوعیت کا تعین ہو سکے۔

سوڈان کی سیاست کے ایک ماہر کہتے ہیں کہ ملک کا دو ٹکڑوں میں بٹ جانا ایک پیچیدہ میڈیکل آپریشن کی طرح ہے ۔ شمال اور جنوب کو الگ الگ کرنا ایسا ہی ہے جیسے دو جڑواں بچوں کو آپریشن سے الگ کیا جائے۔آپریشن کے دوران غلطی سے دونوں بچے ہلاک ہو سکتے ہیں۔

المعیز ابونورا سوڈان کی وزارتِ توانائی کے سابق ماہر معاشیات ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک انتہائی مشکل کام یہ فیصلہ کرنا ہے کہ تیل کی آمدنی کو جس سے خرطوم میں سوڈان کی حکومت، اور جوبا میں جنوبی سوڈان کی حکومت کے اخراجات پورے ہوتے ہیں ،کیسے تقسیم کیا جائے ۔ آج کل تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی برابر برابر تقسیم کی جاتی ہے ۔ تیل جنوبی سوڈان میں نکالا جاتا ہے لیکن اسے پائپ لائنوں کے ذریعے شمالی سوڈان بھیجا جاتا ہے جہاں اسے بر آمد کے لیئے پراسس کیا جاتا ہے ۔

ابونورا کہتے ہیں کہ جنوبی سوڈان کو موجودہ سمجھوتے پر عمل جاری رکھنا چاہیئے اور ہمسایہ ممالک یوگنڈا یا کینیا میں متبادل پائپ لائن کی تعمیر کی باتیں نہیں کرنی چاہئیں کیوں کہ اس طرح کشیدگی پیدا ہو گی۔

خرطوم اور جوبا کو یہ بھی طے کرنا ہوگا 36 ارب ڈالر کا جو قرضہ بین الاقوامی قرض خواہوں کو واجب الادا ہے، اسے کس طرح تقسیم کیا جائے ۔

واشنگٹن میں قائم یو ایس انسٹی ٹیوٹ آف پیس کے ڈائریکٹر جان ٹیمن کہتے ہیں کہ ان مسائل کو حل کرنے کے کئی طریقے ہیں۔’’یہ جاننے کی کوشش کی جا سکتی ہے کہ قرض کیوں لیا گیا تھا، اسے کس قسم کے پراجیکٹس میں لگایا گیا تھا، اس سے شمال کو فائدہ ہوا یا جنو ب کو ، اور پھر اس قرض کو اسی طرح تقسیم کر دیا جائے۔‘‘

شمال اور جنوب کو ان لاکھوں لوگوں کی شہریت اور رہائش کے سوال پر بھی مذاکرات کرنا ہوں گے جو شمال میں کام کرتے ہیں لیکن ان کا تعلق جنوب سے ہے، اور اسی طرح شمال کے بہت سے لوگ جو کاروبار کے سلسلے میں جنوب میں رہتے ہیں۔

سرحدوں کی حد بندی بھی کرنا ہوگی ۔ ہمسایہ افریقی ملکوں کے درمیان ، سوڈان کی شمال جنوب کی سرحد کا شمار طویل ترین سرحدوں میں ہوتا ہے ۔

سرحد کے بارے میں ایک انتہائی متنازع مسئلہ شمال اور جنوب کے درمیان Abyei کے علاقے کا ہے جو تیل کی دولت سے مالا مال ہے۔ خرطوم اور جوبا دونوں Abyei کے دعویدار ہیں۔ اس علاقے میں کبھی کبھی ڈنکا گلے بانوں اور شمال کے عربی بولنے والے مسیریا چرواہوں کے درمیان جو خشک موسم میں اپنے مویشیوں کو چرانے کے لیئے یہاں لاتے ہیں، جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں۔ انٹرنیشنل کرائسس گروپ کے زاچ ورٹن کہتے ہیں کہ عام طور سے مقامی اور ریاستی عہدے دار خانہ بدوشوں کے درمیان اس قسم کی کشیدگیوں سے نمٹ لیتے ہیں۔

ورٹِن کہتے ہیں کہ اس مسئلے کا حل یہ ہے کہ شمال اور جنوب اپنی سرحد پر جہاں تک ممکن ہو، آمد و رفت پر پابندیاں نرم رکھیں تا کہ تاجر اور گلے بان جو معیشت کے لیئے اہم ہیں، آسانی سے آ جا سکیں۔ سوڈان اور مصر کے درمیان اسی قسم کی پالیسی پر عمل ہوتا ہے اور ان ملکوں کے شہری چار آزادیوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں یعنی وہ دونوں ملکوں میں نقل و حرکت، رہائش، ملکیت اور روزگار اختیار کر سکتے ہیں۔

تجزیہ کار جان ٹیمن کہتے ہیں کہ نئے جنوبی سوڈان کو کئی بین الاقوامی معاہدوں میں شامل ہونا پڑے گا جیسے دریائے نیل کے پانیوں کی تقسیم کا معاہدہ۔ سب سے زیادہ پانی مصر استعمال کرتا ہے، لیکن اسے تشویش ہے کہ جنوبی سوڈان مشرقی افریقہ کے کچھ ملکوں کے ساتھ مل کر دریائے نیل کے زیادہ پانی کا مطالبہ کر سکتا ہے ۔

ٹیمن کہتے ہیں ’’نئے ملک جنوبی سوڈان اور دریائے نیل کے اوپر کے رخ کے بعض ملکوں، خصوصاً ایتھیوپیا کی طرف سے نیل کے پانی تک رسائی کے لیئے مذاکرات کا امکان موجود ہے ۔ سوڈانی یہ یقین دہانی کر رہے ہیں کہ وہ موجودہ کوٹوں کے تحت کام کرتے رہیں گے اور اگر جنوب علیحدہ ہو گیا تو وہ نیل کے پانی کے کوٹے کو شمال اور جنوب میں بانٹ لیں گے ۔‘‘

امریکی حکومت جنوب کی پُر امن آزادی اور شمال اور جنوب کے درمیان تعاون کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے ۔ سوڈان کے مغربی دارفر صوبے میں جنگ کے مسئلے کو پر امن طریقے سے حل کرنے، اور جنوب میں امن و امان کے ساتھ تبدیلی لانے کے عوض، امریکی انتظامیہ نے خرطوم کو امریکہ کے ساتھ معمول کے تعلقات کی راہ کی پیشکش کی ہے ۔ اس میں اقتصادی پابندیاں ختم کرنا اور سوڈان کو ان ملکوں کی فہرست سے نکالنا شامل ہو گا جو دہشت گردی کی سرپرستی کرتے ہیں۔ صدر اوباما نے کہا ہے کہ اگر جنوبی سوڈان آزادی کا فیصلہ کرتا ہے تو بین الاقوامی برادری اور امریکہ چاہیں گے کہ دونوں ملک مستحکم اور اقتصادی لحاظ سے مضبوط ہمسایوں کی طرح قائم رہیں۔

XS
SM
MD
LG