رسائی کے لنکس

سوڈان: عیسائیت نا چھوڑنے پر سزا پانے والی خاتون کو رہا کیا جائے گا


فائل فوٹو

فائل فوٹو

راوں ماہ کے اوائل میں ایک عدالت نے مریم کو عیسائی مذہب سے توبہ کرنے کے لیے چار روز کی مہلت بھی دی تھی مگر انکار کے بعد مریم کو موت کی سزا سنائی گئی۔

سوڈان کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ عیسائی مذہب سے لاتعلقی سے انکار پر موت کی سزا پانے والی 27 سالہ خاتون کو ’’چند روز‘‘ میں رہا کر دیا جائے گا۔

سوڈان کی ایک عدالت کی طر ف سے دی جانے والی اس سزا کے خلاف بین الاقوامی سطح پر آواز اٹھائی گئی تھی۔

وزارت کے ترجمان عبداللہ الزراق نے ہفتہ کو رات گئے خرطوم میں اس پیش رفت کا اعلان ایک ایسے وقت کیا جب کچھ ہی روز پہلے موت کی سزا پر عمل درآمد کا انتظار کرنے والی مریم یحییٰ ابراہیم نے جیل میں ایک بچی کو جنم دیا۔

مریم کا پہلے ہی ایک 20 ماہ کا بیٹا ہے جو کہ ان کے ساتھ جیل ہی میں رہتا ہے۔

مریم کے والد مسلمان اور ماں عیسائی تھے تاہم والد کے انہیں چھوڑ جانے کے بعد مریم کی پرورش بحیثیت ایک عیسائی کے ہی ہوئی۔ باوجود سوڈان کے قانون کے مسلمان باپ کی اولاد مسلمان ہی پہچانی جاتی ہے، مریم کے بقول وہ کبھی مسلمان نا تھی۔

راوں ماہ کے اوائل میں ایک عدالت نے مریم کو عیسائی مذہب سے توبہ کرنے کے لیے چار روز کی مہلت بھی دی تھی مگر انکار کے بعد مریم کو موت کی سزا سنائی گئی۔

سوڈان کے قانون کے تحت مریم کی عیسائی مرد ڈینیل وانی سے شادی بدکاری کے زمرے میں آتی ہے جس کی وجہ سے جج نے مریم کو 100 کوڑوں کی اضافی سزا بھی سنائی۔

وانی کو اپنی بچی کے پیدائش کے دن اپنی بیوی اور بچی سے ملنے نہیں دیا گیا تاہم بعد میں انھیں اجازت دے دی گئی۔

اس موت کی سزا پر بین الاقوامی سطح پر مغربی حکومتوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے شدید تنقید کی۔

امریکی وزارت خارجہ نے اس پر احتجاج کرتے ہوئے خرطوم سے مطالبہ کیا کہ وہ آزادی مذہب کے حق کی عزت کرے۔

برطانوی وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ اس فیصلے ’’کی آج کی دنیا میں کوئی جگہ نہیں‘‘۔

عالمی انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اسے ’’قابل نفرت‘‘ قرار دیا۔

سوڈان کا 2005 کا آئین عبادت کی آزادی کی ضمانت دیتا ہے۔ لیکن عملاً حکومت ایک مخصوص شریعت کا نفاذ کرتی ہے۔
XS
SM
MD
LG