رسائی کے لنکس

مالی کمپنیاں اور مروجہ امریکی ضابطے

  • خالد حمید

مالی کمپنیاں اور مروجہ امریکی ضابطے

مالی کمپنیاں اور مروجہ امریکی ضابطے

سفیان یوسفی نے اپنے سفر کی ابتدا 1998ء میں کراچی کے ایف ایم 101کے ’گُڈ مارننگ شو‘ سے کی۔ بعد ازاں، اُنھوں نے ’ہاٹ ایئر بلون‘ میں پاکستان کا دورہ کرکے سامعین کے لیےاہم اور سیاحتی مقامات کا ’آنکھوں دیکھا حال‘ پیش کرکےداد وصول کی۔

اسکالرشپ پر امریکہ کی پینسلوانیا ریاست میں کارنیگی ملن یونیورسٹی سے ماسٹرز کرنے کے بعد، اب وہ پچھلے نو برس سے ورجینیا کی ایک آڈٹ کمپنی میں مشاورتی ماہرکےطور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔

’وائس آف امریکہ‘ سے گفتگو میں سفیان یوسفی کا کہنا تھا کہ چیلنج اور محنت انسان کو بہت کچھ سکھاتے ہیں۔

معاشی معاملات میں مہارت کے بارے میں ایک سوال پر اُن کا کہنا تھا کہ یہ آڈٹ کمپنی مالی اداروں کو اکاؤٴنٹنگ اور فائنانس پر مشورے دیتی ہے، جِس کا زیادہ ترتعلق مروجہ امریکی ضابطوں اور قوانین سےہوتا ہے۔ اُن کے بقول، جب کوئی فائنانس سےمتعلق ادارہ امریکہ میں کام کرتا ہے تو اُسے ملک کےمروجہ ضابطوں کا نہ صرف بخوبی علم ہونا ضروری ہے، بلکہ اُن پر عمل درآمد کرنا بھی لازم ہے۔

آڈٹ کمپنی، جس سے سفیان یوسفی منسلک ہیں، اکاؤنٹنگ اور فائنانس میں ’رسک سروسز‘ میں خدمات انجام دیتی ہے، اور اِن مشاورتی خدمات کا تعلق مالی ضابطوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے، اداروں یا صارفین کی راہنمائی کرنا ہوتا ہے۔ اُن کے بقول،’تمام حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے ہم ایک حکمتِ عملی وضع کرتے ہیں، جس کی بدولت کوئی فائنانس کمپنی اپنے حسابات کو بہتر طور پر چلا سکتی ہے۔‘

تفصیل کے لیے آڈیو رپورٹ سنیئے:

XS
SM
MD
LG