رسائی کے لنکس

چینی کا زیادہ استعمال دل کے لیے نقصان دہ


چینی کا زیادہ استعمال دل کے لیے نقصان دہ

چینی کا زیادہ استعمال دل کے لیے نقصان دہ

ایک حالیہ رپورٹ میں بتایا گیاہے کہ چینی کی صنعت سے وابستہ ماہرین کا کہاہے کہ 2015ء تک دنیا بھر میں چینی کی کھپت 17 کروڑ 60 لاکھ ٹن تک پہنچ جائے گی۔یہ مقدار 2010ء کے لیے لگائے جانے والے اندازے سے 20فی صد زیادہ ہے۔ جب کہ طبی ماہرین کو خدشہ ہے کہ چینی کے استعما ل میں اضافے سے دل کی بیماریوں میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

حالیہ جائزوں سے ظاہر ہوا ہے کہ عالمی سطح پر چینی کی کھپت جو 1900ء میں ایک کروڑ 10 لاکھ ٹن تھی، آج نمایاں طورپر بڑھ کر 14 کروڑ 50 لاکھ ٹن ہوچکی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چینی کی کھپت میں اضافے کی وجہ آبادی اور آمدنی میں اضافہ ہے۔

اب کھانے میں چینی کی کئی مختلف اقسام بھی استعمال کی جارہی ہیں۔میٹھے کی زیادہ مقدار رکھنے والا مکئی کا محلول اور کئی دوسری قسم کی مٹھاس عام طورپر ڈبوں میں بند خوراک اور مشروبات میں استعمال کی جاتی ہے۔

اس مطالعاتی جائزے میں زیر استعمال چینی کی تمام مقداروں کو پیش نظر رکھا گیا ، حتی کہ وہ چینی بھی جو لوگ کافی اور چائے میں ڈالتے ہیں۔

اگرچہ چینی کا زیادہ استعمال اس صنعت کے لیے فائدہ مند ہے لیکن یہ لوگوں کے لیے بہت نقصان دہ بھی ہے۔

ایموری یونیورسٹی کی ڈاکٹر مریم واس اور پبلک ہیلتھ نرس جین والش نے چینی کے استعمال کے بارے میں ایک مطالعہ کیا جس سے یہ پتا چلا کہ چینی کے زیادہ استعمال سے کولیسٹرول اور جسم میں چربی بڑھانے والے مرکبات کی سطح بلند ہوجاتی ہے، جس سے دل کی بیماری کا خطرہ بڑجاتا ہے۔

ڈاکٹر مریم واس کا کہنا ہے کہ جس طرح زیادہ روغنی خوراک سے آپ کے جسم میں چربیلے مادوں اور کولیسٹرول کی مقدار بڑھ جاتی ہے ، اسی طرح چینی کے زیادہ استعمال سے بھی یہی نتائج برآمد ہوتے ہیں۔

ماہرین نے اپنے مطالعے کے لیے غذائیت اور خون میں چربی کی مقدار کے بارے میں سرکاری اعدادوشمار استعمال کیے جو گذشتہ چھ سال کے دوران چھ ہزار سے زیادہ بالغ افراد کے ریکارڈ پر مشتمل تھے۔

مطالعاتی ٹیم نے روزمرہ زندگی میں چینی کے استعمال کے لحاظ سے لوگوں کو پانچ گروپوں میں تقسیم کیا۔جین والش کہتی ہیں کہ چینی کی سب سے زیادہ مقدار استعمال کرنے والا گروپ روزانہ چینی کے 46 چمچے استعمال کرتا تھا۔ جب کہ سب سے کم چینی استعمال کرنے والا گروپ کا روزانہ کا خرچ چائے کے تین چمچ تھا۔

جو لوگ روزانہ 46 چمچے چینی استعمال کرتے تھے، ان کے بارے ڈاکٹر مریم کہتی ہیں کہ مطالعے سے پتا چلا کہ ان میں دل کی بیماری کا خطرہ دوسرے گروپوں کی نسبت زیادہ تھا۔کیونکہ چینی کی زیادہ مقدار خون میں پائے جانے اچھے کولیسٹرول یعنی ایچ ڈی ایل کو نقصان پہنچاتی ہے ۔ ایچ ڈی ایل دل کو صحت مند رکھنےکے لیے ضروری ہے۔

ڈاکٹر مریم کہتی ہیں کہ جس نسبت سے چینی کا استعمال بڑھتا ہے ، اسی تناسب سے خون میں موجود نقصان دہ کولیسٹرول کی سطح بلند، جب کہ اچھے کولیسٹرول (ایچ ڈی ایل) کی سطح کم ہوجاتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جو لوگ دل کے امراض سے بچنا چاہتے ہیں ، انہیں اپنی خوراک میں چینی کی مقدار کم کرنی چاہیے۔

امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ خواتین کو چینی کی اس سے زیادہ مقدار نہیں کھانی چاہیے جس سے 100 حرارے حاصل ہوسکتے ہوں۔ اسی طرح مردوں کو 150 حراروں سے زیادہ چینی کھانےسے گریز کرنا چاہیے۔

ان کا کہنا ہے کہ امریکہ میں لوگ چینی کی جو اضافی مقدار استعمال کرتے ہیں اس کا ایک بڑا حصہ مشروبات سے آتا ہے۔

یہ تحقیق امریکن میڈیکل ایسوسی ایشن کے جریدے میں شائع ہوئی ہے۔

XS
SM
MD
LG