رسائی کے لنکس

ادھرکوئٹہ سمیت صوبہ بلوچستان کے دیگر علاقوں میں بھی شہریوں کو گیس کی سپلائی میں کہیں کمی تو کہیں مکمل بندش کا سامنا ہے ۔گھریلو صارفین تو پریشان ہیں ہی ہوٹلز کے آگے بھی لائنیں لگی ہوئی ہیں۔ بیشتر ہوٹلز تو بند ہیں اور جو کھلے ہیں وہاں تاخیر کے باعث کھانا بننے اور ملنے دونوں میں پریشانی درپیش ہے۔

کراچی ۔۔۔ پاکستان کے بالائی علاقوں میں موسم انتہائی سرحد ہونے کے ساتھ ہی گیس کا بحران شد ت اختیار کرگیا ہے۔ یہاں تک کہ میدانی علاقے بھی اس کی لپیٹ میں آگئے ہیں۔

اتوار کو لاہورسمیت پنجاب میں گیس کے بحران نے عوام کے ضبط کا بندھن توڑ دیا اور لوگ بڑی تعداد میں مظاہروں پر اتر آئے۔ ان مظاہرین میں زیادہ تعداد خواتین کی تھی۔

ادھر ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں گیس کا پریشر کم ہوگیا ہے جس سے عوامی مشکلات بڑھ گئیں جبکہ کوئٹہ سمیت بلوچستان کے دیگر کئی شہروں اور علاقوں کی عوام بھی گیس کی کمی کے سبب بری طرح پریشانی میں مبتلا ہوگئی ۔

لاہورمیں خواتین توے ،برتن اور چولہے اٹھا کرسڑکوں پر نکل آئیں اور گیس کی کمی کے خلاف سخت نعرے بازی کی ۔ ان کا مطالبہ تھا کہ فوری طور پر گیس کی فراہمی ممکن بنائی جائے۔ گیس کے سب وہ کھانا نہیں پکاسکتیں جس سے بچوں کو بھی بھوکے پیٹ اسکول بھیجنا پڑرہا ہے۔

کچھ خواتین کا یہ بھی کہنا تھا کہ انہیں سرد موسم کے باوجود بچوں کو ٹھنڈے پانی نہلانا پڑ رہا ہے ۔ ٹھنڈنے پانی سے بچے بیمار ہورہے ہیں ۔

بعض خواتین کا کہنا ہے کہ انہیں گیس نہ مل پانے کے سبب لکڑیاں جلاکر گزارہ کرنا پڑرہا ہے جو صحت اور ماحول دونوں کے لئے انتہائی خطرناک ہے لیکن حکام اس کے باوجود ان کے مطالبے پر کان نہیں دھر رہے۔

اتوار کوجن علاقوں میں گیس کا شدید بحران رہا ان میں سمن آباد،اسلام آبادکالونی اورظفرکالونی سرفہرست ہیں جبکہ لاہور کے علاوہ راولپنڈی ، اسلام آباد اور دیگر شہروں میں بھی کچھ اسی قسم کی صورتحال کا سامنا ہے ۔

کراچی میں گیس پریشر ناہونے کے برابر
پنجاب کے ساتھ ساتھ کراچی کو بھی گیس کے بحران نے اپنی لپیٹ میں لینا شروع کردیا ہے اور لاہور ہی کی طرح یہاں کے بیشتر علاقوں میں گیس کا پریشر انتہائی کم یا نہ ہونے کے برابر ہے۔

گلستان جوہر، گلشن اقبال، گارڈن ، گولیمار ، نیو کراچی ، رنچھوڑ لائن اور دیگر اولڈ سٹی ایریاز میں ناصرف گیس پریشر میں کمی کا سامنا ہے بلکہ بیشتر اوقات گیس سپلائی معطل بھی ہوگئی جس کے باعث گھریلو خواتین کو مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔خواتین کا کہنا ہے کہ انہیں چائے کا پانی ابالنے میں ایک ایک گھنٹہ لگ رہا ہے باقی کاموں کا اندازہ آپ خود لگالیں۔

ذرائع سوئی سدرن گیس کمپنی کے مطابق پائپ لائنز پرانی ہونے کے باعث گیس پریشر کو بڑھانا ممکن نہیں، گیس پریشر میں اضافہ کیا گیا تو گیس لیک ہونے لگے گی۔

ادھرکوئٹہ سمیت صوبہ بلوچستان کے دیگر علاقوں میں بھی شہریوں کو گیس کی سپلائی میں کہیں کمی تو کہیں مکمل بندش کا سامنا ہے ۔گھریلو صارفین تو پریشان ہیں ہی ہوٹلز کے آگے بھی لائنیں لگی ہوئی ہیں۔ بیشتر ہوٹلز تو بند ہیں اور جو کھلے ہیں وہاں تاخیر کے باعث کھانا بننے اور ملنے دونوں میں پریشانی درپیش ہے۔

XS
SM
MD
LG