رسائی کے لنکس

مردان: ایکسائز کے دفتر میں خود کش دھماکا


دسمبر میں مردان کے نادر مرکز پر بھی حملہ ہوا تھا۔ فائل فوٹو

دسمبر میں مردان کے نادر مرکز پر بھی حملہ ہوا تھا۔ فائل فوٹو

ضلعی پولیس افسر فیصل شہزاد نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ابتدائی تفتیش سے معلوم ہوا کہ حملہ آور نے دھماکے کے لیے سات سے آٹھ کلو بارودی مواد استعمال کیا۔

پاکستان کے شمال مغربی شہر مردان میں منگل کی دوپہر ہونے والے ایک خودکش بم دھماکے میں کم ازکم ایک شخص ہلاک اور نو دیگر زخمی ہو گئے۔

مردان کے ضلعی پولیس افسر فیصل شہزاد نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ خودکش حملہ آور نے ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے دفتر کے باہر پہنچ کر پہلے فائرنگ کی اور پھر اپنے جسم سے بندھے بارودی مواد میں دھماکا کر دیا۔

دھماکے سے دس افراد زخمی ہوئے جنہیں اسپتال منتقل کیا گیا۔ فیصل شہزاد کے مطابق تین زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد کے بعد اسپتال سے فارغ کر دیا گیا جب کہ دیگر سات میں سے ایک زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔

انھوں نے بتایا کہ ابتدائی تفتیش سے معلوم ہوا کہ حملہ آور نے دھماکے کے لیے سات سے آٹھ کلو بارودی مواد استعمال کیا۔

مردان قبائلی علاقوں سے ملحق صوبہ خیبر پختونخوا کا شہر ہے جہاں فوج کی تنصیاب بھی واقع ہیں۔ اس ضلع میں پہلے بھی ہلاکت خیز واقعات رونما ہو چکے ہیں۔

گزشتہ سال 29 دسمبر کو شہریوں کے کوائف کے اندراج کے قومی ادارے "نادرا" کے مردان میں واقع دفتر پر ہونے والے خودکش بم دھماکے میں 26 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

رواں سال جنوری میں مردان کے قریب واقع شہر چارسدہ کی باچا خان یونیورسٹی پر بھی دہشت گردوں نے حملہ کیا تھا جس میں طلبا اور اساتذہ سمیت 21 افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔

مردان کے ضلعی پولیس افسر فیصل شہزاد نے بتایا کہ حالات کے پیش نظر پولیس پوری طرح سے چوکس ہے اور ضلع میں کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ دہشت گرد ایسے اہداف کی طاق میں رہتے ہیں جہاں وہ آسانی سے حملہ کر سکیں۔

"یہاں ہزاروں ایسی جگہیں ہیں جن کی ہم حفاظت کر رہے ہیں، مثال کے طور پر 2500 تو صرف اسکول ہیں پھر ہماری تین عدالتیں ہیں۔۔۔ایکسائز کے دفتر پر اپنے لوگ تعینات تھے ان کی اپنی فورس ہے ہم جن جن جگہوں کی حفاظت کر رہے ہیں اور جو اقدام کر رہے ہیں جس میں تلاش اور چھاپا مار کارروائیاں ہیں، میرے بات کرنے کا مقصد یہ ہے کہ جہاں کہیں بھی انھیں (دہشت گردوں کو) سافٹ ٹارگٹ ملا تو وہاں جا کے وہ پھٹ گیا ہے۔"

پاکستانی فوج نے جون 2014ء میں شدت پسندوں کے مضبوط گڑھ تصور کیے جانے والے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں بھرپور کارروائی شروع کی تھی جس میں اب تک 3500 سے زائد ملکی و غیر ملکی عسکریت پسندوں کو ہلاک اور ان کے سیکڑوں ٹھکانوں کو تباہ کرنے کا بتایا جا چکا ہے۔

ان دنوں شمالی وزیرستان کی ایک دورافتادہ اور دشوار گزار وادی شوال میں فوجی کارروائی کی جا رہی تھین جس میں حکام کے بقول جس میں حکام کے بقول فورسز کو قابل ذکر کامیابی حاصل ہوئی ہیں۔

فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے پیر کو شوال کا دورہ کیا جس میں انھیں بتایا گیا کہ فروری میں شروع ہونے والے اس مرحلے میں وادی کا 800 مربع کلومیٹر علاقہ دہشت گردوں سے پاک کردیا گیا ہے۔ آرمی چیف نے شوال آپریشن کی کامیابی پر فوجیوں کے کردار کو سراہا۔

فوج کے ایک بیان کے مطابق جنرل راحیل نے دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے گٹھ جوڑ کو قبائلی علاقوں کے علاوہ جہاں کہیں بھی وہ ہوں ختم کرنے کے لیے کارروائیاں کرنے کے احکامات بھی دیے۔

XS
SM
MD
LG