رسائی کے لنکس

افغان حکام کے مطابق کابل میں جس گاڑی کو نشانہ بنایا گیا ہے وہ ایک غیر ملکی کمپنی کی تھی اور اُس پر سکیورٹی گارڈز سوار تھے۔

افغانستان میں پیر ہونے والے خودکش بم دھماکوں میں کم از کم 24 افراد ہلاک اور 40 سے زائد زخمی ہوئے۔

ایک خودکش حملہ کابل میں ہوا جب کہ دوسرا ملک کے شمال مشرقی صوبے بدخشاں میں کیا گیا۔

دارالحکومت کابل میں حکام کے مطابق خودکش بم دھماکے میں کم از کم 14 افراد ہلاک جب کہ آٹھ زخمی ہو گئے ہیں۔

پولیس کے مطابق خود کش حملہ آور پیدل تھا اور اُس نے ایک بس کو نشانہ بنایا۔

افغان حکام کے مطابق جس گاڑی کو نشانہ بنایا گیا ہے وہ کینیڈین کمپنی کی تھی اور اُس پر سکیورٹی گارڈز سوار تھے۔ بس پر حملے میں ہلاک ہونے والے سکیورٹی گارڈز کا تعلق نیپال سے تھا۔

افغانستان کے چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ نے اس پر تشدد حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے "دہشت اور خوف زدہ کرنے کی کارروائی قرار دیا ہے"۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

کابل ہی کے ایک اور علاقے میں سڑک میں نصب ایک بم دھماکے سے صوبائی کونسل کا ایک ممبر اور دو دیگر افراد زخمی ہو گئے۔

کابل میں نیٹو کے ’ریزولیوٹ اسپورٹ مشن‘ نے بھی ان حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے حملوں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ شدت پسندوں کو معصوم شہریوں کی جانوں کی کوئی پراوہ نہیں ہے۔

دوسرا خودکش حملہ افغانستان کے شمال مشرقی صوبے بدخشاں میں ہوا، حکام کے مطابق موٹر سائیکل سوار خود کش حملہ آور نے ایک مصروف مارکیٹ میں دھماکا کیا، جس سے کم از کم 10 افراد ہلاک جب کہ 30 سے زائد زخمی ہوئے۔

حالیہ مہینوں میں طالبان عسکریت پسندوں کی کارروائیوں میں تیزی آئی ہے جس میں ناصرف سیکورٹی فورسز بلکہ عام شہریوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

رواں سال اپریل میں کابل میں افغان سکیورٹی فورسز کے دفتر پر ہوئے مہلک حملے میں 60 سے زائد افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہو گئے تھے۔ اس حملے کی ذمہ داری طالبان نے قبول کی تھی۔

XS
SM
MD
LG